روخان یوسفزئی — چہروں کو پڑھنے والے قلم کار

شخصیاتِ پختونخوا ، تاریخ کے آئینے میں اہلِ کمال
تحریر: منور شاہ منور
کچھ کتابیں صرف پڑھی نہیں جاتیں، محسوس کی جاتی ہیں۔ وہ اپنے عہد کے چہروں، آوازوں، خیالوں اور یادوں کو وقت کی گرد سے بچا کر آنے والی نسلوں کے حوالے کر دیتی ہیں۔ روخان یوسفزئی کی "شخصیاتِ پختونخوا” بھی ایسی ہی ایک کتاب ہے؛ ایک ایسی کاوش جس میں افراد کے تذکرے کے ساتھ ایک پورے عہد کی فکری بازگشت بھی سنائی دیتی ہے۔

پشتو زبان و ادب کے مایۂ ناز لکھاری اور ہر دل عزیز شخصیت، روخان یوسفزئی کا تعلق سرزمینِ صوابی کے ایک معزز خانوادے سے ہے۔ وہ شاعر بھی ہیں، ادیب بھی، صحافی بھی، براڈکاسٹر بھی، کالم نگار بھی اور شخصیت شناس بھی۔ مگر ان کی شخصیت کا اصل حسن شاید یہ ہے کہ یہ تمام رنگ ان کے وجود میں الگ الگ نہیں، بلکہ ایک دوسرے میں اس طرح گھلے ملے ہیں کہ ایک جامع اور دل نشیں ادبی شخصیت وجود میں آ گئی ہے۔ شاعر انہیں احساس عطا کرتا ہے، صحافی سوال، براڈکاسٹر سماعت اور کالم نگار مشاہدے کو لفظ دینے کا سلیقہ۔ اسی امتزاج نے ان کی نثر کو خبر کے ساتھ نظر، سوال کے ساتھ شعور اور سنجیدگی کے ساتھ شگفتگی عطا کی ہے۔

ان کی شاعری میں احساس کی نرمی اور مشاہدے کی گہرائی ہے، جبکہ کالم نگاری میں وہ روزمرہ کے کسی معمولی واقعے میں بھی کسی بڑے انسانی یا سماجی معنی کی تلاش کر لیتے ہیں۔ ان کی تحریر کا کمال یہ ہے کہ وہ بات کو بوجھل کیے بغیر گہرا کر دیتے ہیں؛ شاید یہی ایک اچھے ادیب اور اچھے صحافی کی پہچان بھی ہے۔

روخان صاحب سے میری پہلی ملاقات بھی کسی ادبی محفل یا رسمی تقریب میں نہیں ہوئی تھی، بلکہ زندگی کے ایک بالکل سادہ اور اتفاقی لمحے میں ہوئی۔

غالباً 2010ء یا 2011ء کی بات ہے۔ میں اپنے گاؤں اصحاب بابا سے پشاور، اپنے جائے روزگار دواخانہ حکیم اجمل خان، گھنٹہ گھر، آ رہا تھا کہ باچاخان مرکز کے گیٹ کے قریب روخان یوسفزئی صاحب کھڑے نظر آئے۔ میں نے انہیں پہچان لیا اور اپنی موٹرکار میں ساتھ بیٹھنے کی دعوت دی۔ میں عرصۂ دراز سے ان کی شخصیت سے واقف تھا، مگر باقاعدہ تعارف نہیں ہوا تھا۔ راستے میں چند باتیں ہوئیں۔ میں نے بے تکلفی سے پوچھا:

"سر جی! آپ نے کہاں جانا ہے؟”
انہوں نے سادگی سے فرمایا:
"خیبر بازار۔”

بس، اتنی سی ملاقات تھی۔ مگر زندگی کے سفر میں کچھ ملاقاتیں فاصلے طے نہیں کرتیں، یادوں میں راستے بنا دیتی ہیں۔

پھر وقت گزرتا رہا۔ 2014ء میں میری کتاب "کاروانِ ادب، جلدِ اول” شائع ہوئی تو ایک نسخہ لے کر ایکسپریس کے دفتر حاضر ہوا اور روخان صاحب کو پیش کیا۔ اس کے بعد مختلف ادبی پروگراموں میں ملاقاتیں ہوتی رہیں، سلام دعا اور مختصر گفتگو بھی ہوتی رہی، مگر تفصیلی نشست کا موقع نہ مل سکا۔ آج جب ان کی کتاب میرے سامنے ہے تو وہ چند منٹ کا سفر بھی یادوں کے دریچے سے جھانکنے لگتا ہے۔

"شخصیاتِ پختونخوا” کی پہلی جلد میں ساٹھ شخصیات شامل ہیں۔ ان میں ادیب، شاعر، صحافی، سیاست دان، دانشور، علما اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ اہلِ قلم شامل ہیں۔ پچپن شخصیات پر مشتمل تحریریں ان تفصیلی مکالموں کا حاصل ہیں جو روخان یوسفزئی نے روزنامہ ایکسپریس کے معروف "شخصیت ایڈیشن” کے لیے 2007ء سے 2014ء کے دوران کیے۔ اس کے علاوہ حمزہ شنواری، غنی خان اور قلندر مومند پر فیچرز، جبکہ مولانا عبدالقادر اور ولی محمد طوفان پر کالم بھی اس مجموعے کا حصہ ہیں۔

روخان یوسفزئی کا کمال صرف سوال پوچھنے میں نہیں، بلکہ سوال کے ذریعے شخصیت کو کھولنے میں ہے۔ وہ سامنے بیٹھے شخص سے صرف اس کا ماضی نہیں پوچھتے، بلکہ اس کے اندر چھپے ہوئے زمانے کو بھی آواز دیتے ہیں۔ ان کے مکالموں میں شخصیت خود اپنے تجربات، نظریات، خوشیوں، دکھوں اور اپنے عہد کے بارے میں بولتی ہے۔ یوں قاری صرف کسی فرد سے متعارف نہیں ہوتا، بلکہ اس فرد کے زمانے سے بھی ملاقات کر لیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ "شخصیاتِ پختونخوا” محض شخصیات کا مجموعہ نہیں رہتی؛ یہ ایک عہد کی فکری، ادبی اور سماجی یادداشت بن جاتی ہے۔

ان کی شخصیت نگاری میں صحافی کی نظر اور شاعر کا دل ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اسی لیے خشک معلومات بھی ان کے ہاں زندگی کی حرارت اختیار کر لیتی ہیں۔ وہ لفظوں کے ایسے مسافر ہیں جو کبھی شعر کے راستے دل تک پہنچتے ہیں، کبھی کالم کے ذریعے ذہن کو متوجہ کرتے ہیں اور کبھی مکالمے کے وسیلے سے کسی شخصیت کے اندر چھپی ہوئی ایک پوری دنیا ہمارے سامنے رکھ دیتے ہیں۔

کتاب میں بعض اہم شخصیات کے شامل نہ ہونے کے حوالے سے سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں، لیکن کسی ایک جلد کو مکمل انسائیکلوپیڈیا سمجھنا شاید مناسب نہیں۔ یہ کتاب ایک مخصوص صحافتی دور میں کیے گئے مکالموں، فیچرز اور کالموں کا انتخاب ہے۔ ہر بڑا علمی و ادبی سفر ایک ہی قدم سے شروع ہوتا ہے، اور مصنف کی جانب سے جلدِ دوم کی تیاری کا عندیہ اس بات کی امید دلاتا ہے کہ یہ سفر ابھی جاری ہے۔

میرے نزدیک اس کتاب کی اصل اہمیت یہ ہے کہ روخان یوسفزئی نے ان شخصیات کو محض صفحات پر جگہ نہیں دی، بلکہ ان کی آوازوں کو وقت کے سپرد کر دیا ہے۔

اور شاید یہی ایک قلم کار کی سب سے بڑی خدمت ہے۔

لوگ چلے جاتے ہیں، محفلیں اجڑ جاتی ہیں، آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں؛ مگر اچھا قلم گزرے ہوئے زمانے کو پھر سے بولنے کا ہنر جانتا ہے۔

روخان یوسفزئی نے اپنی شاعری میں احساس کو، براڈکاسٹنگ میں آواز کو، کالم نگاری میں مشاہدے کو اور صحافت میں سوال کو زندہ رکھا۔ "شخصیاتِ پختونخوا” اسی مسلسل سفر کا ایک خوب صورت پڑاؤ ہے۔

یہ کتاب دراصل چہروں کا نہیں، آوازوں کا مجموعہ ہے؛ اور آوازوں کا نہیں، ایک عہد کی دھڑکنوں کا محفوظ ریکارڈ ہے۔

روخان یوسفزئی اس خوب صورت علمی و ادبی کاوش پر بجا طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ دعا ہے کہ ان کے قلم کا یہ سفر جاری رہے اور آئندہ جلدوں میں مزید چہرے، مزید آوازیں اور مزید کہانیاں محفوظ ہوتی رہیں، تاکہ آنے والی نسلیں جب اپنے گزرے ہوئے زمانے کو تلاش کریں تو انہیں کتاب کے کسی صفحے سے ہمارے عہد کی آواز سنائی دے۔

وقت گزر جاتا ہے، یادیں دھندلا جاتی ہیں، مگر سچا لفظ وقت کی پیشانی پر اپنا نشان چھوڑ جاتا ہے۔ "شخصیاتِ پختونخوا” اسی نشان کی ایک خوب صورت مثال ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے