اسلام آباد(کیو این این ورلڈ) پاکستان میں فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈ ڈھانچے میں تقریباً پانچ دہائیوں بعد بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) کے عہدے کے اختیارات کو قانون میں باقاعدہ طور پر واضح کر دیا گیا ہے۔ الجزیرہ کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق نئی قانون سازی سے فوجی کمانڈ کا مرکز مزید مضبوط اور مربوط ہوا ہے، تاہم اس کے نتیجے میں سول نگرانی، تینوں مسلح افواج کے درمیان توازن اور فیصلہ سازی میں فوج کے کردار سے متعلق سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
پاکستان کی قومی اسمبلی نے 20 اگست 2026 کو ڈیفنس فورسز آف پاکستان ایکٹ 2026 اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترمیم کی منظوری دی۔ ان دونوں قوانین کے ذریعے چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کو قانونی حیثیت دی گئی، جو گزشتہ برس 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے تشکیل دیا گیا تھا۔ یہ قوانین ایسے وقت میں منظور کیے گئے جب حکومت نے اسی روز کابینہ سے منظوری حاصل کرنے کے بعد انہیں قومی اسمبلی میں پیش کیا اور چند گھنٹوں میں منظوری دے دی۔ گزشتہ سال نومبر میں 27ویں آئینی ترمیم بھی نسبتاً مختصر مدت میں پارلیمنٹ سے منظور ہوئی تھی۔
الجزیرہ کے مطابق یہ تبدیلیاں مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی چار روزہ فوجی کشیدگی کے ایک سال سے کچھ زیادہ عرصے بعد سامنے آئی ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق موجودہ اصلاحات 1976 کے بعد پاکستان کے اعلیٰ فوجی کمانڈ نظام میں سب سے بڑی تبدیلی قرار دی جا سکتی ہیں۔ 1976 میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ قائم کیا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد بری، بحری اور فضائی افواج کے درمیان محدود سطح پر رابطہ اور رابطہ کاری تھا۔ اب یہ عہدہ ختم کر دیا گیا ہے اور اس کی جگہ ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز قائم کیا گیا ہے، جس کی سربراہی چیف آف ڈیفنس فورسز کریں گے۔ اس وقت فیلڈ مارشل عاصم منیر چیف آف ڈیفنس فورسز کے ساتھ چیف آف آرمی اسٹاف بھی ہیں۔
الجزیرہ نے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر سے ان تبدیلیوں کی وجوہات اور نئے ہیڈکوارٹر میں پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کی نمائندگی سے متعلق سوالات بھی کیے، تاہم رپورٹ کے مطابق آئی ایس پی آر کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
نئے نظام اور سابقہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے عہدے میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سابقہ عہدہ بنیادی طور پر رابطہ کاری تک محدود تھا اور اسے پاک بحریہ یا پاک فضائیہ پر براہِ راست کمانڈ کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ ہر سروس بڑی حد تک اپنے معاملات خود چلاتی تھی۔ نئی قانون سازی کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کی ’’آپریشنل کمانڈ اور کنٹرول‘‘ حاصل ہوگا، یعنی تینوں سروسز کی فوجی کارروائیوں کی ذمہ داری وفاقی حکومت کے سامنے چیف آف ڈیفنس فورسز کی ہوگی۔
الجزیرہ سے گفتگو کرنے والے ایک ریٹائرڈ تھری اسٹار جنرل کے مطابق نیا نظام پہلی مرتبہ ایک واضح اور باقاعدہ قانونی کمانڈ چین تشکیل دیتا ہے، جس میں وزیراعظم کے بعد چیف آف ڈیفنس فورسز اور ان کا نیا ہیڈکوارٹر، پھر متعلقہ سروسز کے سربراہان اور اس کے بعد زمینی سطح پر موجود فارمیشنز آتی ہیں۔ سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے پاس اس نوعیت کا قانونی اور آپریشنل اختیار موجود نہیں تھا۔
سابق سیکریٹری دفاع اور ریٹائرڈ تھری اسٹار جنرل نعیم خالد لودھی نے بھی الجزیرہ کو بتایا کہ اب چیف آف ڈیفنس فورسز ایک حقیقی کمانڈر کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں اور ان کے اختیارات کو قانون کے ذریعے واضح کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق سابقہ نظام میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی فضائیہ یا بحریہ کے حوالے سے براہ راست کوئی کارروائی نہیں کر سکتا تھا، جبکہ نئے نظام میں اختیارات تینوں سروسز تک وسیع ہو گئے ہیں۔
تاہم نئی ساخت میں ایک اہم سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا پاکستان کا نیا فوجی کمانڈ نظام ضرورت سے زیادہ آرمی مرکوز ہو جائے گا۔ الجزیرہ کے مطابق اس معاملے پر دفاعی حلقوں میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ نئی قانون سازی کے تحت کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ، جو ملک کی جوہری صلاحیت رکھنے والی افواج کی نگرانی کرے گا، کا تعلق لازماً پاک فوج سے ہوگا اور اس کی تعیناتی چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر ہوگی۔
جولائی 2026 میں جنرل سید عامر رضا کو پاکستان کا پہلا کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ مقرر کیا گیا تھا۔ اس عہدے پر ان کی تعیناتی لیفٹیننٹ جنرل سے جنرل کے عہدے پر ترقی کے بعد ہوئی۔ اس سے قبل وہ چیف آف جنرل اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
الجزیرہ سے گفتگو کرنے والے لاہور کے دفاعی تجزیہ کار مجید نظامی کے مطابق سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ اصولاً تینوں سروسز میں سے کسی ایک کے افسر کو دیا جا سکتا تھا، لیکن اب نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کی سربراہی کے لیے پاک بحریہ یا پاک فضائیہ کے افسر کے راستے باضابطہ طور پر بند ہو گئے ہیں۔
ایک ریٹائرڈ تھری اسٹار جنرل نے الجزیرہ کو بتایا کہ نئے نظام میں ادارہ جاتی طاقت کا مرکز واضح طور پر آرمی مرکوز دکھائی دیتا ہے۔ ایک سابق اعلیٰ فوجی عہدیدار کے مطابق، جو اسٹریٹیجک منصوبہ بندی سے وابستہ رہے ہیں، تینوں سروسز میں اعلیٰ عہدوں کی منظوری چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیار میں آنے سے مستقبل میں پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے اندر احساسِ محرومی پیدا ہو سکتا ہے، کیونکہ ان کی ترقیوں اور اعلیٰ تعیناتیوں کے فیصلے ایسی شخصیت کے ذریعے کیے جائیں گے جس کا تعلق ان کی اپنی سروس سے نہیں ہوگا۔
ریٹائرڈ وائس ایڈمرل احمد سعید نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا کہ یہ معاملہ خاص طور پر پاک بحریہ کے لیے اہم ہے، کیونکہ پاکستان کی سمندری دفاعی صلاحیت کے لیے سمندر میں مواصلات، آبدوزوں، سطحی جہازوں اور فضائی پلیٹ فارمز سے متعلق خصوصی تکنیکی تجربہ درکار ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہوگا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے ہیڈکوارٹر میں تینوں سروسز کو فیصلہ سازی میں کس تناسب سے شامل کیا جاتا ہے اور سروسز کے سربراہان کو اعلیٰ سطح پر کتنا آپریشنل اختیار حاصل رہتا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق نئے نظام کے تحت پاکستان کے جوہری کمانڈ ڈھانچے پر بھی اثر پڑے گا۔ اسلام آباد کے ایک دفاعی تجزیہ کار نے الجزیرہ کو بتایا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کو نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا ڈپٹی چیئرمین مقرر کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی کی سربراہی وزیراعظم کے پاس رہے گی۔ یہ ادارہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق معاملات کی نگرانی کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال پاک فوج نے آرمی راکٹ فورس کمانڈ بھی قائم کی تھی، جو ان روایتی میزائل حملوں کو دیکھے گی جو جوہری کمانڈ چین سے باہر ہوں گے۔ ایک دفاعی تجزیہ کار کے مطابق اس سے جوہری تزویراتی دفاع اور روایتی میزائل کارروائیوں کے درمیان واضح تفریق پیدا ہوگی۔
اسٹریٹیجک پلانز ڈویژن کے حوالے سے بھی توقع کی جا رہی ہے کہ وہ پاکستان کے جوہری اور میزائل پروگرام کی نگرانی کا اپنا موجودہ کردار برقرار رکھے گا اور نئے کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کے تحت کام کرے گا۔ تاہم ایک سابق فوجی عہدیدار کے مطابق جوہری ہتھیاروں پر باضابطہ اختیار وزیراعظم کے پاس ہی رہنے کا امکان ہے، لیکن عملی طور پر چیف آف ڈیفنس فورسز جوہری فیصلہ سازی میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
نئی قانون سازی کا سب سے اہم اور حساس پہلو سول حکومت کی جانب سے فوج کی نگرانی اور اختیار سے متعلق ہے۔ سابق فوجی افسر اور موجودہ وکیل کرنل انعام رحیم کے مطابق نئے قانون کے تحت اعلیٰ فوجی افسران کی برطرفی یا ریٹائرمنٹ کے معاملات میں چیف آف ڈیفنس فورسز کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ اختیار حاصل ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں ایسے معاملات میں وزیراعظم اور کابینہ کو سمری بھیجی جاتی تھی، جبکہ اب چیف آف ڈیفنس فورسز براہ راست حکم جاری کر سکتے ہیں۔
اسلام آباد کے ایک دفاعی تجزیہ کار نے الجزیرہ سے گفتگو میں اس قانون کو آئین کے آرٹیکل 243 کے حوالے سے بھی سوالات کا باعث قرار دیا۔ آرٹیکل 243 کے مطابق مسلح افواج کا کنٹرول اور کمانڈ وفاقی حکومت کے پاس ہے۔ تجزیہ کار کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کا آپریشنل کمانڈ اور کنٹرول دینے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت کے آئینی اختیار اور نئے فوجی کمانڈ نظام کے درمیان عملی تعلق کس طرح قائم رہے گا۔
تاہم اس تشریح سے سب ماہرین متفق نہیں۔ سپریم کورٹ کے وکیل حافظ احسان احمد کھوکھر نے الجزیرہ کو بتایا کہ نئی قانون سازی دراصل گزشتہ سال کی آئینی ترمیم کے بعد ضروری قانونی کارروائی ہے اور پارلیمنٹ نے آئین سے باہر کوئی نیا اختیار پیدا نہیں کیا بلکہ پہلے سے قائم آئینی ڈھانچے کو قانون کے ذریعے عملی شکل دی ہے۔
ان کے مطابق کینیڈا، برطانیہ اور آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک میں بھی اعلیٰ ترین دفاعی عہدوں کے اختیارات قانون کے ذریعے واضح کیے گئے ہیں۔ تاہم الجزیرہ کی رپورٹ میں اس تقابل کی ایک اہم حد بھی واضح کی گئی ہے۔ برطانیہ اور آسٹریلیا میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز کے مساوی عہدہ کسی ایک سروس کے موجودہ سربراہ کے ساتھ مستقل طور پر منسلک نہیں ہوتا اور تاریخی طور پر یہ عہدہ بری، بحری اور فضائی افواج کے درمیان تبدیل ہوتا رہا ہے۔
پاکستان میں اس کے برعکس چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ بیک وقت چیف آف آرمی اسٹاف کے پاس ہے اور موجودہ قانون کے تحت دونوں ذمہ داریاں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے پاس ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق پاکستان میں فوج، بالخصوص پاک فوج، قیام پاکستان کے بعد سے ملکی سیاسی نظام میں ایک طاقتور کردار ادا کرتی رہی ہے۔ فوج نے چار مرتبہ براہ راست اقتدار سنبھالا اور مجموعی طور پر تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ملک پر براہ راست حکمرانی کی۔ اسی پس منظر میں نئے فوجی کمانڈ ڈھانچے کو محض انتظامی اصلاح کے بجائے پاکستان میں سول اور عسکری طاقت کے توازن کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
نئے نظام کے عملی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات، تینوں سروسز کے سربراہان کا کردار، نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کی نگرانی اور وفاقی حکومت کے آئینی اختیار کے درمیان عملی توازن کس طرح قائم کیا جاتا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ابھی بعض اہم قواعد و ضوابط مکمل طور پر سامنے آنا باقی ہیں، اس لیے نئے کمانڈ ڈھانچے کے مکمل اثرات وقت کے ساتھ مزید واضح ہوں گے۔
ماخذ: الجزیرہ
Why Pakistan overhauled its military command structure after five decades