قلم کی حرمت کا امین … ڈاکٹر شیرزمان سیماب
تحریر: منور شاہ منور
بعض لوگ وقت کے دھارے میں بہہ جاتے ہیں اور بعض اپنے کردار، علم اور قلم سے وقت کا رخ متعین کرتے ہیں۔ ایسے ہی اہلِ قلم میں ایک معتبر نام شیرزمان سیماب کا ہے، جنہوں نے پشتو زبان و ادب کو صرف اپنی تخلیقات سے مالا مال نہیں کیا بلکہ اپنی علمی، تحقیقی اور تنظیمی خدمات سے اس کے دامن میں ایسے نقوش ثبت کیے ہیں جو دیرپا ہیں۔
10 فروری 1974ء کو ملاکنڈ کے تاریخی قصبے تھانہ میں آنکھ کھولنے والے شیرزمان سیماب ایک ایسے خانوادے کے چشم و چراغ ہیں جس کے آبا و اجداد تقریباً دو صدی قبل سوات کے علاقے شموزئی، ناگوا سے ہجرت کرکے تھانہ میں آباد ہوئے۔ یوسفزئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے اس فرزندِ علم کے والدِ محترم گل محمد اپنی شرافت، دیانت اور روایتی اقدار کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ انہی روایات نے شیرزمان سیماب کی شخصیت میں وقار، انکسار اور تہذیبی شعور پیدا کیا۔
تعلیم کے میدان میں ان کی کامیابیاں ان کی محنت اور فکری بالیدگی کا ثبوت ہیں۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 2 تھانہ سے حاصل کی، پھر گورنمنٹ ڈگری کالج تھانہ سے ایف اے اور بی اے مکمل کیے۔ بعد ازاں پشاور یونیورسٹی کے شعبۂ پشتو سے ایم اے کیا اور گولڈ میڈل حاصل کرکے اپنی علمی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ یہ اعزاز محض ایک سند نہیں بلکہ مسلسل محنت، مطالعے اور ذہنی ریاضت کی روشن دلیل ہے۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد سات برس تک گورنمنٹ جوڑ کالج، بونیر میں بطور لیکچرر خدمات انجام دیں۔ آج کل پشتو اکیڈمی میں ریسرچ آفیسر کی حیثیت سے تحقیق کے چراغ روشن کر رہے ہیں۔ ان کا تحقیقی کام اس امر کا غماز ہے کہ وہ ادب کو محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ تہذیب، تاریخ اور قومی شعور کی حفاظت کا مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔
شیرزمان سیماب کی ادبی زندگی طالب علمی ہی سے شروع ہوگئی تھی۔ گورنمنٹ ڈگری کالج تھانہ کے ادبی مجلے کے مدیر رہے۔ ادبی تنظیم زلمے ادبی کاروان اور بزمِ فکر و فن کے جنرل سیکرٹری اور بعد ازاں صدر منتخب ہوئے۔ پشاور یونیورسٹی میں تاترہ لٹریری سوسائٹی کی قیادت کرتے ہوئے انہوں نے نوجوان لکھنے والوں میں ادب کا ذوق بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ عہدے ان کے لیے اعزاز سے زیادہ ذمہ داری تھے، اور انہوں نے اس ذمہ داری کو ہمیشہ خوش اسلوبی سے نبھایا۔
شاعری ان کی شخصیت کا سب سے دلکش حوالہ ہے۔ ان کا شعری مجموعہ "د دار پہ سر” ان کی فکری گہرائی، جمالیاتی احساس اور تخلیقی پختگی کی بہترین مثال ہے۔ ان کی شاعری میں محبت بھی ہے، مزاحمت بھی؛ روایت کی خوشبو بھی ہے اور نئے زمانے کی دھڑکن بھی۔ ان کے اشعار میں انسان، وطن، تہذیب اور محبت ایک دوسرے میں اس طرح گھل مل جاتے ہیں کہ قاری محض الفاظ نہیں پڑھتا بلکہ احساس کی ایک پوری دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔
اپنی شادی کے موقع پر منظوم سہرے مرتب کرنا بھی ان کی تخلیقی انفرادیت کا ایک خوبصورت مظہر ہے۔ یہ روایت سے محبت بھی ہے اور روایت کو ادب کا حصہ بنانے کا حسین شعور بھی۔ یہی وہ وصف ہے جو انہیں عام شاعروں سے ممتاز کرتا ہے۔
اردو اور انگریزی زبانوں پر ان کی دسترس نے ان کے مطالعے کو وسعت دی، جبکہ پشتو زبان سے ان کی غیر معمولی وابستگی نے انہیں تحقیق، تنقید اور تخلیق کے میدان میں ایک معتبر نام بنا دیا۔ ان کے نزدیک ادب صرف حسنِ بیان کا نام نہیں بلکہ معاشرے کی فکری تعمیر، قومی شناخت کے تحفظ اور انسانی اقدار کی آبیاری کا ذریعہ بھی ہے۔
آج جب زبانیں اپنی شناخت کی جنگ لڑ رہی ہیں اور مطالعے کا ذوق کم ہوتا جا رہا ہے، ایسے میں شیرزمان سیماب جیسے اہلِ قلم امید کی روشن کرن ہیں۔ ان کا قلم نئی نسل کو اپنی زبان، اپنی تہذیب اور اپنے علمی ورثے سے جوڑنے کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جو لوگ علم اور ادب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں، وقت ان کے نام کو فراموش نہیں کرتا۔
شیرزمان سیماب کا نام پشتو ادب کے ان روشن میناروں میں شامل ہے جن کی روشنی آنے والی نسلوں کے لیے بھی راستہ دکھاتی رہے گی۔ دعا ہے کہ ان کا قلم ہمیشہ اسی طرح علم، تحقیق، محبت اور شعور کے چراغ روشن کرتا رہے، کیونکہ زندہ قومیں اپنے ایسے ہی اہلِ قلم پر فخر کیا کرتی ہیں۔