کشمیر ٹھنڈی ہوائیں، گرم حالات
تحریر ۔ سید نذیر شاہ
آج کل آزاد کشمیر کی ٹھنڈی ہواؤں میں وہاں کے گرم حالات کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ جب ہم کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات میں بجلی کی قیمتوں کے تنازع کی خبریں سنتے ہیں، تو یہ کوئی ایسا انوکھا مسئلہ نہیں لگتا جو صرف کشمیر تک محدود ہو۔ اگر سچ پوچھا جائے تو یہ بالکل وہی درد ہے جو اس وقت پورے پاکستان کا عام آدمی جھیل رہا ہے۔ لکڑی، پانی اور بجلی جیسے قدرتی وسائل سے مالا مال خوبصورت وادیوں کے لوگ ہوں یا پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے گرم میدانوں کے باسی، سب کا رونا ایک ہی ہے کہ اب بجلی کا بل جیب پر نہیں، بلکہ سیدھا دل پر لگتا ہے۔ عام آدمی اب بلوں پر بنے کیو آر کوڈز، ٹیکسوں کی بھرمار اور کیپسٹی چارجز کے گورکھ دھندے میں ایسا الجھ گیا ہے کہ اسے سمجھ ہی نہیں آتا کہ وہ صرف اپنے حصے کی استعمال کی گئی بجلی کی قیمت دے رہا ہے یا پورے نظام کی ناکامیوں کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔
کشمیر کے لوگوں کا غصہ اس لیے زیادہ ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ منگلا ڈیم ہمارے ہاں ہے اور نیلم جہلم کا پانی ہمارے پہاڑوں سے بہتا ہے، تو پھر ہمیں بجلی اتنی مہنگی کیوں مل رہی ہے؟ وہ اپنے وسائل پر اپنا حق مانگتے ہیں۔ اب اگر اس کا موازنہ پاکستان کے دیگر صوبوں سے کریں، تو وہاں بھی یہی کہانی مختلف رنگوں میں نظر آتی ہے۔ پچھلے چند سالوں میں جب پاکستان میں بجلی کے بلوں میں پندرہ بیس قسم کے ٹیکس شامل کیے گئے، تو کراچی سے لے کر پشاور تک تاجروں اور سول سوسائٹی عوام کے ساتھ مل کر بجلی کے ان بلوں کے خلاف شدید احتجاج کر رہے ہیں، کیونکہ جب ایک عام دکاندار یا دیہاڑی دار پورے مہینے کی کمائی صرف بجلی کے بل کی نذر کر دیتا ہے، تو اس کے گھر کا چولہا ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آزاد کشمیر میں اس احتجاج کو ایک باقاعدہ تنظیم یعنی ایکشن کمیٹی کی شکل مل گئی، جس نے پورے خطے کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا۔ پاکستان کے دیگر شہروں اور حصوں میں احتجاج عام طور پر متفرق اور وقتی ہوتے ہیں، لیکن تکلیف دونوں جگہ برابر ہے۔ بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے لوگ بھی اکثر اپنے گیس اور دیگر وسائل پر ایسا ہی حق مانگتے ہیں، اور خیبر پختونخوا کے عوام سستی پن بجلی کا تقاضا کرتے ہیں یعنی یہ ایک ایسا معاشی بحران ہے جس نے سرحدوں اور خطوں کی تمیز مٹا کر رکھ دی ہے۔
بات صرف بجلی اور آٹے کی قیمتوں تک ہی محدود نہیں رہی، بلکہ کالعدم کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے حکومت کے سامنے 38 مطالبات کا ایک پورا چارٹر رکھ دیا، جس میں کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستوں کے خاتمے کا ایک انتہائی حساس اور سیاسی مطالبہ بھی شامل ہے۔ یہ 12 نشستیں دراصل آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا حصہ ہیں، لیکن ان کی سب سے خاص اور مختلف بات یہ ہے کہ یہ انتخابی حلقے آزاد کشمیر کے جغرافیے کے اندر موجود نہیں ہیں، بلکہ پاکستان کے چاروں صوبوں کے مختلف شہروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جب 1947 اور 1965 کی جنگوں کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر سے لاکھوں کشمیری ہجرت کر کے پاکستان آئے، تو انہیں آزاد کشمیر کے سیاسی نظام میں نمائندگی دینے کے لیے یہ انتظام کیا گیا تھا۔ ان 12 نشستوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں سے 6 نشستیں جموں صوبے سے ہجرت کرنے والے مہاجرین کے لیے ہیں اور باقی 6 نشستیں وادی کشمیر سے آنے والے مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں۔ یہ حلقے پاکستان کے ان شہروں اور اضلاع میں واقع ہیں جہاں ان کشمیری مہاجرین کی بڑی آبادی مقیم ہے، جیسے پنجاب کے شہروں راولپنڈی، سیالکوٹ، لاہور، گوجرانوالہ اور نارووال میں یہ حلقے بنے ہوئے ہیں، جبکہ سندھ میں کراچی اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں بھی ان کے ووٹرز موجود ہیں۔
ان شہروں میں رہنے والے کشمیری مہاجرین پاکستان کے عام انتخابات میں بھی ووٹ ڈالتے ہیں اور آزاد کشمیر کی اسمبلی کے لیے بھی اپنے ان مخصوص حلقوں میں ووٹ دے کر اپنا نمائندہ چنتے ہیں، جو پھر مظفرآباد اسمبلی میں جا کر بیٹھتا ہے۔ کالعدم ایکشن کمیٹی کو اعتراض یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے اندر کل 33 حلقے ہیں، جبکہ یہ 12 حلقے پاکستان کے اندر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں جو بھی سیاسی جماعت حکومت میں ہوتی ہے، وہ اپنے اثر و رسوخ اور وسائل کا استعمال کر کے پاکستان میں موجود ان 12 نشستوں پر آسانی سے اپنے امیدوار جتوا لیتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آزاد کشمیر کے اندر رہنے والے عوام جس پارٹی کو بھی اکثریت دیں، یہ باہر کی 12 نشستیں اکثر مظفرآباد میں حکومت بنانے یا گرانے کا فیصلہ کرتی ہیں۔ انہی مطالبات کے حق میں کمیٹی نے 9 جون کو کشمیر بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی تھی جس نے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا۔
لیکن کہانی کا دوسرا رخ یہ ہے کہ جب کوئی تحریک اپنے اصل مقاصد سے ہٹ کر ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے لگے، تو امن و امان قائم کرنا حکومت کی ناگزیر ضرورت بن جاتا ہے۔ آزاد کشمیر حکومت کے مطابق، کمیٹی کے چند عناصر نے عوامی جذبات کی آڑ میں انتشار پھیلانے اور سکیورٹی اداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جس کے باعث انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت اس پر پابندی لگانا پڑی۔ ایسے میں جب حکومت پہلے ہی 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم کر چکی ہو، تو احتجاج کا تسلسل مذاکرات سے دانستہ فرار کا ثبوت ہے۔ مزید برآں، آزاد کشمیر کا مقبوضہ کشمیر سے موازنہ کرنا بھی حقائق کے بالکل منافی ہے۔ سچ یہی ہے کہ سیاسی و آئینی مسائل کا حل سڑکوں پر زندگی اور کاروبار مفلوج کر کے نہیں، بلکہ صرف جمہوری اداروں اور قانون سازی کے دائرے میں ہی ممکن ہے۔
اگر غور کیا جائے تو حکومتوں کا ردعمل بھی دونوں جگہ ایک جیسا ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ چاہے اسلام آباد کی حکومت ہو یا مظفرآباد کی، وہ ہمیشہ قومی گرڈ، آئی ایم ایف کے معاہدوں اور بجٹ خسارے کا رونا روتی ہیں۔ حکمران کہتے ہیں کہ سبسڈی دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں، لیکن دوسری طرف جب عوام ان کے پروٹوکول، سرکاری گاڑیوں کے قافلے اور شاہانہ مراعات دیکھتے ہیں، تو غصہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ کشمیر میں بھی یہی ہوا کہ جب ایک طرف عوام سے قربانی مانگی گئی اور دوسری طرف اشرافیہ کی عیاشیاں برقرار رہیں، تو لوگوں کا صبر جواب دے گیا۔
آخر میں بات صرف اتنی سی ہے کہ چاہے کشمیر ہو یا پاکستان کا کوئی بھی دوسرا شہر، عام آدمی اب لچھے دار تقریروں اور وقتی دلاسوں سے بہلنے والا نہیں ہے۔ جب تک حکومتیں اپنے اخراجات کم نہیں کرتیں اور عوام کو بجلی، آٹے جیسی بنیادی ضرورتوں میں حقیقی ریلیف نہیں دیتیں، تب تک یہ چنگاری سلگتی رہے گی۔ یہ مسئلہ صرف کشمیر کا نہیں، یہ ہر اس پاکستانی کا مسئلہ ہے جو اب مہنگائی کے اس فضا میں سانس لینے کی جگہ مانگ رہا ہے۔