پاکستان کے مسائل اور نوجوان: نوکری نہیں، کاروبار وقت کی ضرورت
تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ نوجوانوں کو نوکری کی بجائے کاروبار کی طرف وقت کی ضرورت بن چکا ہے ہمارا نوجوان کاروبار کی طرف توجہ کیوں نہیں دے پا رہا آئیں اس پر تفصیلی تبادلہ خیال کرتے ہیں
پاکستان اس وقت بے شمار معاشی، سماجی اور انتظامی مسائل سے دوچار ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ لا قانونیت کرپشن اور اقربا پروری ہے۔ بے روزگاری، مہنگائی، غربت، صنعتی زوال، قرضوں کا بوجھ اور آبادی میں مسلسل اضافہ ایسے چیلنجز ہیں جو ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ان مسائل کا سب سے زیادہ اثر نوجوان نسل اور آنے والے کل پر پڑ رہا ہے، جو پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی تقریباً 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی نوجوان اگر درست سمت میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تو پاکستان ترقی کی نئی منازل طے کر سکتا ہے، لیکن اگر ان کی توانائیاں ضائع ہو گئیں جیسا کہ ہو رہی ہیں تو یہ قومی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی سرکاری یا نجی ملازمت کو کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے کسی اچھی سرکاری نوکری میں چلے جائیں۔ ہر سال لاکھوں نوجوان ڈگریاں لے کر عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں مگر ملازمتوں کے محدود مواقع ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ نتیجتاً بے روزگاری، مایوسی اور احساس محرومی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کی بھی ایک بڑی وجہ سرکاری سطح پر ناقص منصوبہ بندی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور میں صرف نوکریوں کے ذریعے معاشی استحکام حاصل کرنا ممکن نہیں۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور کامیاب قومیں اپنے نوجوانوں کو کاروبار، جدت، ٹیکنالوجی اور صنعت کی طرف لے جا رہی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کے پیچھے بھی یہی سوچ کارفرما ہے کہ نوجوان ملازمت کے متلاشی نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بنیں۔
دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جن قوموں نے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری کی، وہ ترقی کی بلند ترین منازل تک پہنچ گئیں۔ جنوبی کوریا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ چند دہائیاں قبل یہ ملک جنگ، غربت اور معاشی تباہی کا شکار تھا، لیکن حکومت نے نوجوانوں کو صنعت، ٹیکنالوجی اور کاروبار کی طرف راغب کیا۔ آج جنوبی کوریا دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور اس کی مصنوعات پوری دنیا میں استعمال ہو رہی ہیں۔
چین کی مثال اس سے بھی زیادہ متاثر کن ہے۔ ایک وقت تھا جب چین کو ایک پسماندہ زرعی ملک سمجھا جاتا تھا، لیکن کاروبار دوست پالیسیوں، صنعت کاری اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی نے اسے دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت بنا دیا۔ لاکھوں نوجوانوں نے چھوٹے کاروبار شروع کیے جو بعد میں عالمی سطح کی کمپنیوں میں تبدیل ہوگئے۔
سنگاپور قدرتی وسائل سے تقریباً محروم ایک چھوٹا سا ملک ہے، مگر وہاں تعلیم، کاروبار، میرٹ اور تجارت کو فروغ دے کر ایسی معیشت قائم کی گئی جو آج دنیا کے لیے مثال بن چکی ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش نے گارمنٹس انڈسٹری، چھوٹے کاروباروں اور برآمدات پر توجہ دے کر اپنی معیشت کو مضبوط بنایا۔ یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ قوموں کی ترقی کا راز نوجوانوں کو کاروباری مواقع فراہم کرنے میں پوشیدہ ہے۔
پاکستان میں بھی کاروبار کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ زراعت، لائیو اسٹاک، ڈیری فارمنگ، بکری پال، پولٹری، شہد کی پیداوار، ای کامرس، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فوڈ پراسیسنگ، مصنوعی ذہانت (AI) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبے نوجوانوں کے لیے روشن امکانات رکھتے ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں رہنے والے نوجوان جدید زرعی طریقوں، ویلیو ایڈیشن، ڈیری فارمنگ اور بکری پال کے شعبوں میں کامیابی حاصل کرکے نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار پیدا کر سکتے ہیں۔
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے، لیکن نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس شعبے سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ اگر جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور کاروباری سوچ کو زراعت کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو یہ شعبہ لاکھوں نوجوانوں کے لیے معاشی خوشحالی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ دنیا بھر میں زرعی کاروبار اربوں ڈالر کی صنعت بن چکا ہے جبکہ پاکستان میں بھی اس میدان میں بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ مگر بدقسمتی سے زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم چینی، کپاس، گندم اور دالیں باہر سے منگواتے ہیں کیونکہ ہم کمیشن کو ترجیح دیتے ہیں ناکہ اپنے مستقبل کو۔
حکومت، تعلیمی اداروں، مالیاتی اداروں اور نجی شعبے کی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو صرف ڈگریاں دینے کے بجائے کاروباری تربیت بھی فراہم کریں۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں انٹرپرینیورشپ، مالیاتی نظم و نسق، مارکیٹنگ، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے مضامین کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ بینکوں کو نوجوان کاروباری افراد کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے جبکہ حکومت کو ایسا کاروبار دوست ماحول پیدا کرنا چاہیے جہاں نوجوان بلاخوف و خطر اپنے خوابوں کو عملی شکل دے سکیں۔
آج کا دور علم، ہنر اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ جو قومیں وقت کے تقاضوں کو سمجھ کر اپنے نوجوانوں کو جدید علوم اور کاروباری مہارتوں سے آراستہ کر رہی ہیں وہی ترقی کر رہی ہیں۔ پاکستان بھی وسائل، صلاحیتوں اور افرادی قوت کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کی توانائیوں کو مثبت سمت دی جائے اور انہیں خود انحصاری کی راہ پر گامزن کیا جائے۔
پاکستان کا محفوظ اور روشن مستقبل نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہے۔ اگر نوجوان ملازمتوں کے انتظار میں وقت ضائع کرنے کے بجائے کاروبار، صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی اور اختراع کے میدان میں آگے بڑھیں تو ملک کی معاشی مشکلات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ جب نوجوان روزگار تلاش کرنے والوں کے بجائے روزگار پیدا کرنے والے بن جائیں گے تو بے روزگاری، غربت اور معاشی عدم استحکام جیسے مسائل پر قابو پانا آسان ہو جائے گا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی سوچ کو تبدیل کریں اور نوجوانوں کو یہ پیغام دیں کہ کامیابی صرف نوکری میں نہیں بلکہ کاروبار، محنت، جدت اور خود انحصاری میں بھی ہے۔ جن قوموں کے نوجوان بڑے خواب دیکھتے ہیں، محنت کرتے ہیں اور خطرات مول لینے کا حوصلہ رکھتے ہیں، وہی قومیں دنیا کی قیادت کرتی ہیں۔ اگر پاکستان کے نوجوان بھی اس راستے کا انتخاب کر لیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمایاں مقام حاصل کرے گا، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے ہم مسلسل 78 سالوں سے ناکام منصوبہ بندی کے تحت اپنے مستقبل کو تاریکی میں ڈبونے کا کام کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہیں تاریخ گواہ ہے۔ لیکن آج بھی اگر صحیح منصوبہ بندی کی جائے تو سب کچھ ممکن ہے
،،امید کا دامن تھامے رکھیں مگر کب تک،، آج کا نوجوان ہی کل کا پاکستان ہے۔
