جی بی انتخابی ٹریلر، ن لیگ کے لیے عوامی پکچر ابھی باقی ہے
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
گلگت بلتستان اسمبلی کے حالیہ انتخابات نے وفاقی اور پنجاب کی حکمران مسلم لیگ ن کے لیے ایک سخت اور تلخ حقیقت کا آئینہ پیش کر دیا ہے۔ اب تک 24 نشستوں میں سے 18 کے غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی نے 9 نشستیں حاصل کر لی ہیں، جبکہ آزاد امیدواروں نے 6، مسلم لیگ ن محض 2 اور مجلس وحدت المسلمین ایک نشست جیت سکی ہے۔ یہ نتائج ن لیگ کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہیں۔ وہ پارٹی جو وفاق اور پنجاب میں حکومت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہے، گلگت بلتستان جیسی نسبتاً چھوٹی اور حساس علاقائی اسمبلی میں بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ روایتی طور پر وفاقی حکومتیں یہاں اچھا پرفارم کرتی رہی ہیں، مگر اس بار عوام کا غصہ واضح طور پر سڑکوں، ووٹوں اور نتائج میں نظر آ رہا ہے۔
سب سے بڑی وجہ معاشی بدحالی ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں لگاتار اضافہ، بجلی کے بلوں پر ناجائز سلیب سسٹم، 200 یونٹ بجلی کی سبسڈی کا سیاسی ڈرامہ، اور پٹرولیم مصنوعات پر بھاری بھرکم لیویز اور مارجنز نے غریب اور متوسط طبقے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ عوام کو بتایا جاتا رہا کہ یہ سب آئی ایم ایف کی شرائط ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان پالیسیوں نے عوامی جیبوں کو لوٹا ہے جبکہ حکمرانوں کی مراعات برقرار ہیں۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی قیادت میں توانائی کے شعبے کی جو پالیسیاں سامنے آئی ہیں، وہ نہ صرف غلط ہیں بلکہ عوام کے ساتھ دھونس اور دھمکیوں والی ہیں۔ بجلی کے بلوں میں سلیب سسٹم کے ذریعے لوگوں کو دھمکانا، زیادہ بل بھیج کر پریشر ڈالنا اور پھر 200 یونٹ کی سبسڈی کا تماشا دکھانا، یہ سب عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اویس لغاری کی پالیسیاں عوام کو مزید غریب بنانے کا باعث بن رہی ہیں۔ جہاں ایک طرف عام شہری بجلی کے بل ادا نہ کر پانے کی وجہ سے لائٹوں سے محروم ہو رہے ہیں، وہیں دوسری طرف وزراء اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو بھرپور مراعات، سرکاری گاڑیاں، مفت بجلی، مفت پٹرول اور دیگر سہولیات میسر ہیں۔ عوام سے آئی ایم ایف کا بہانہ لے کر نچوڑا جا رہا ہے، مگر خود حکمران طبقہ اس معاشی دباؤ سے بالکل آزاد دکھائی دیتا ہے۔ یہ دوہرا معیار نہ صرف عوام میں غصہ بھڑکا رہا ہے بلکہ سیاسی سطح پر بھی شدید ردعمل پیدا کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگ کھل کر لکھ رہے ہیں کہ "حکومت عوام کی قربانی پر اپنی مراعات بچا رہی ہے”۔
گلگت بلتستان کے انتخابات میں آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد میں کامیابی بھی ایک اہم پیغام ہے۔ عوام پارٹیوں کے ناموں سے زیادہ ان امیدواروں پر بھروسہ کر رہے ہیں جو مقامی مسائل کو بہتر سمجھتے ہیں اور وفاقی حکومت کی ناکام پالیسیوں کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں بلاشبہ ان کی مقامی تنظیم اور بی بی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی قیادت کی محنت کا نتیجہ ہیں، مگر آزادوں کی جیت سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ عوام پارٹیوں کی روایتی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی صرف دو نشستیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ عوام نے مہنگائی، بجلی اور پٹرول کے بحران کو برداشت نہیں کیا۔
سوشل میڈیا پر #GBElections، #PMLNFailure اور #AwamKaGussa جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ لوگ ویڈیوز اور پوسٹس شیئر کر کے بتا رہے ہیں کہ کس طرح پٹرول کی قیمت 417 روپے لیٹر تک پہنچنے والے حالات میں عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ اب بھی پٹرول 377.78 روپے فی لیٹر ہے، جو غریب آدمی کی پہنچ سے دور ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ نتائج ن لیگ کے لیے ایک واضح وارننگ ہیں۔ اگر وفاق اور پنجاب میں بھی یہی عوامی ردعمل سامنے آیا تو انتخابات میں ن لیگ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ "مہنگائی کی ذمہ دار ن لیگ ہے” یہ ایک سیاسی الزام ضرور ہے، مگر عوامی حلقوں اور مبصرین کے مطابق وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیاں، خاص طور پر توانائی اور پٹرولیم کے شعبے میں کیے گئے فیصلے، اس الزام کو تقویت دے رہے ہیں۔
اویس لغاری کی وزارت نے بجلی کے شعبے میں جو اصلاحات کی ہیں، ان میں سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ "سلیب سسٹم” اور سبسڈی کا ڈرامہ بنا ہے۔ عوام کو بتایا جاتا ہے کہ 200 یونٹ تک سبسڈی ملے گی، مگر عملی طور پر بلز میں اتنا اضافہ کر دیا جاتا ہے کہ سبسڈی کا فائدہ صفر ہو جاتا ہے۔ یہ عوام کے ساتھ ایک مذاق ہے۔ جبکہ وزیر صاحب خود اور ان کے ساتھی وزراء سرکاری خزانے سے مراعات لے کر آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ تضاد عوام کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے اور گلگت بلتستان کے انتخابات نے اس تضاد کو ووٹوں کی شکل میں ظاہر کر دیا ہے۔
حکمران جماعت کے لیے اب سوچنے کا وقت ہے۔ گلگت بلتستان کا یہ انتخابی ٹریلر وفاق اور پنجاب کے لیے مستقبل کی جھلک دکھا رہا ہے۔ اگر مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا، پٹرول اور بجلی کے بحران کو حل نہ کیا گیا، اور عوام کے مسائل کو آئی ایم ایف کے بہانے ٹالا جاتا رہا تو عوامی غصہ مزید بڑھے گا۔ سیاسی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ موجودہ حکومت اگر معاشی ریلیف کے ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے — جیسے پٹرول پر لیویز کم کرنا، بجلی کے بلوں میں شفافیت لانا، اور وزراء کی مراعات میں کمی — تو عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔
البتہ ابھی حتمی نتائج کا انتظار ہے۔ کوئی بھی پارٹی اکیلے حکومت بنانے کے لیے درکار 17 نشستیں حاصل نہیں کر سکی، لہٰذا مخلوط حکومت کا امکان غالب ہے۔ مگر ن لیگ کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ گلگت بلتستان کے نتائج صرف ایک علاقائی انتخاب نہیں بلکہ وفاقی سطح پر عوامی مزاج کی جھلک ہیں۔ عوام اب صرف ترقیاتی وعدوں پر نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی کے مسائل ، راشن, پٹرول، بجلی اور مہنگائی پر ووٹ ڈال رہے ہیں۔
مسلم لیگ ن کی قیادت کو اب خود احتسابی کرنی ہوگی۔ اویس لغاری سمیت ان وزراء کی پالیسیاں جو عوام پر دھونس اور دھمکیوں والی ہیں، ان کا ازالہ کرنا ہوگا۔ مراعات کا یہ نظام ختم کر کے عوام کو ریلیف دینا ہوگا۔ ورنہ یہ انتخابی ٹریلر آئندہ بڑے انتخابات میں مکمل عوامی پکچر بن کر سامنے آ سکتا ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام نے واضح پیغام دیا ہے: اب صرف وعدوں کی سیاست نہیں چلے گی۔ عوام کا صبر جواب دے چکا ہے اور حکمرانوں کو اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا۔
ن لیگ کے لیے عوامی پکچر ابھی باقی ہے، مگر یہ پکچر تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تبدیل شدہ تصویر پارٹی کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن جائے گی۔ گلگت بلتستان نے آئینہ دکھا دیا ہے ، اب دیکھنا یہ ہے کہ ن لیگ اس آئینے میں دیکھ کر کیا سبق سیکھتی ہے۔
