اسرائیل میں سیاسی تبدیلی کے امکانات روشن، اپوزیشن رہنما آئزنکوٹ کو پارلیمنٹ کی اکثریت کی حمایت مل گئی

تل ابیب (ویب ڈیسک)اسرائیل میں حکومت کی تبدیلی کے امکانات بڑھ گئے ہیں، جہاں اپوزیشن جماعت یشار پارٹی کے سربراہ اور سابق آرمی چیف گاڈی آئزنکوٹ کو وزیراعظم بننے کے لیے پارلیمنٹ کے 67 ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی ہے، جبکہ موجودہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی حمایت میں 46 ارکان سامنے آئے ہیں۔ تاہم نئی حکومت کی تشکیل کا حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے اور اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ اتوار کو حکومت سازی کا مینڈیٹ دینے کے حوالے سے فیصلہ کریں گے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق صدر آئزک ہرزوگ نے حالیہ انتخابات کے بعد کنیسٹ کی تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت کی، جس کے دوران مختلف جماعتوں نے حکومت بنانے کے لیے اپنے پسندیدہ امیدواروں کی حمایت کا اعلان کیا۔ مشاورت کے اختتام پر صدر نے بتایا کہ 67 ارکان پر مشتمل پارلیمانی دھڑوں نے گاڈی آئزنکوٹ کی حمایت کی، جبکہ 46 ارکان نے موجودہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی سفارش کی۔ سات ارکان نے کسی امیدوار کی حمایت نہیں کی۔

رپورٹ کے مطابق یشار پارٹی کے سربراہ گاڈی آئزنکوٹ کو اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ عرب جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہوئی ہے، جس سے نیتن یاہو کے اقتدار میں برقرار رہنے کے امکانات متاثر ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی مشترکہ عرب فہرست اور متحدہ عرب فہرست نے بھی آئزنکوٹ کو حکومت بنانے کے لیے نامزد کرنے کی حمایت کی ہے۔

اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کا کہنا ہے کہ اگرچہ مشاورت کے نتائج بظاہر واضح ہیں، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کون سا امیدوار مختلف سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر مستحکم حکومت تشکیل دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی دھڑوں کے درمیان اختلافات اور ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد پر تحفظات کے باعث حکومت سازی کی صورتحال ابھی مکمل طور پر واضح نہیں۔

صدر ہرزوگ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اتوار کو حکومت بنانے کا مینڈیٹ دینے سے قبل مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مزید بات چیت کریں گے تاکہ اس بات کا تعین کیا جاسکے کہ کون سا امیدوار حکومت بنانے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمنٹ میں حکومت سازی کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ آئزنکوٹ کو 67 ارکان کی سفارشات حاصل ہونے کے باوجود حکومت تشکیل دینے کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان باقاعدہ اتحاد اور اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ہوگا۔

اگر صدر ہرزوگ آئزنکوٹ کو حکومت بنانے کا مینڈیٹ دیتے ہیں تو انہیں مقررہ مدت میں اتحادی جماعتوں کو ساتھ ملا کر نئی حکومت تشکیل دینا ہوگی۔ اس پیش رفت کو نیتن یاہو کے طویل سیاسی اقتدار کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے