رینالہ خورد (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار) لیسکو واپڈا اختر آباد سب ڈویژن میں مبینہ بدعنوانیوں اور کرپشن کا راج برقرار ہے، جہاں بااثر اہلکار بجلی چوروں کی سرپرستی کرنے اور معصوم شہریوں کو ہراساں کر کے لاکھوں روپے بٹورنے میں مصروف ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایک طرف مہنگی بجلی نے عوام کا کچومر نکال دیا ہے اور شہری اپنے اثاثے بیچ کر بل ادا کر رہے ہیں، تو دوسری طرف اختر آباد سب ڈویژن کے لائن سپرنٹنڈنٹس اور دیگر عملے نے صارفین کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ واپڈا ملازمین نے بجلی چوروں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور ان سے ماہانہ "بھتہ” ایزی پیسہ اور جاز کیش کے ذریعے وصول کیا جاتا ہے۔ چوری شدہ بجلی کا بوجھ لائن لاسز کی صورت میں شریف صارفین پر ڈال کر ان کے بلوں میں غیر قانونی یونٹس شامل کیے جا رہے ہیں۔
متاثرہ شہریوں نے شکایت کی ہے کہ واپڈا اہلکار سادہ لوح افراد پر بجلی چوری کے جھوٹے الزامات لگا کر انہیں بھاری جرمانوں اور جیل کا ڈر دکھاتے ہیں اور پھر جان چھوڑنے کے عوض بھاری رقوم کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مزید برآں، گرین میٹر لگوانے کے خواہش مند صارفین سے بھی ہزاروں روپے رشوت طلب کی جا رہی ہے؛ جو صارف مطالبہ پورا نہیں کرتا اسے دفتروں کے چکر لگوا کر ذلیل و خوار کیا جاتا ہے۔
سماجی حلقوں اور متاثرہ صارفین نے وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری، اور چیف ایگزیکٹو لیسکو سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اختر آباد سب ڈویژن میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف فوری انکوائری کروائی جائے اور کرپٹ عملے کو نشانِ عبرت بنا کر عوام کو اس معاشی و ذہنی عذاب سے نجات دلائی جائے۔