ایمسٹرڈیم(کیو این این ورلڈ)پاکستان نے ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈکپ 2026 میں 16 سال بعد پہلی کامیابی حاصل کرتے ہوئے جاپان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 3 کے مقابلے میں 4 گول سے شکست دے دی۔ پاکستان نے یہ کامیابی نویں سے 16ویں پوزیشن کے کلاسیفکیشن میچ میں حاصل کی، جہاں قومی ٹیم نے دو گول کے خسارے سے شاندار کم بیک کرتے ہوئے مقابلہ اپنے نام کیا۔
نیدرلینڈز میں جاری ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈکپ کے کلاسیفکیشن مرحلے میں پاکستان اور جاپان کے درمیان مقابلہ واگنر اسٹیڈیم میں ہوا۔ قومی ٹیم ایک موقع پر دو گول کے خسارے میں تھی، تاہم پاکستانی کھلاڑیوں نے بھرپور مزاحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف خسارہ ختم کیا بلکہ فیصلہ کن برتری بھی حاصل کرلی۔
پاکستان کی جانب سے رانا وحید نے دو گول اسکور کیے، جبکہ حماد الدین اور حنان شاہد نے ایک، ایک گول کرکے ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کی مسلسل جدوجہد اور جارحانہ کھیل کے باعث جاپانی دفاع پر دباؤ بڑھتا گیا اور قومی ٹیم نے مقابلے کا پانسہ پلٹ دیا۔
قومی ٹیم کی قیادت بھی اس میچ میں تبدیل رہی۔ ابوبکر انجری کے باعث میدان میں کپتانی کے فرائض انجام نہیں دے سکے، جس کے بعد معین شکیل نے پاکستان کی قیادت سنبھالی۔ ٹیم نے کپتان کی تبدیلی اور میچ کے دوران دو گول کے خسارے کے باوجود حوصلہ نہیں ہارا اور شاندار کم بیک کے ذریعے فتح حاصل کی۔
یہ کامیابی پاکستان ہاکی کے لیے اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ قومی ٹیم نے ہاکی ورلڈکپ میں آخری مرتبہ 2010 میں کامیابی حاصل کی تھی، جب پاکستان نے اسپین کو 2-1 سے شکست دی تھی۔ اس کے بعد قومی ٹیم مسلسل کئی ورلڈکپ مقابلوں میں فتح سے محروم رہی اور 2026 میں جاپان کے خلاف کامیابی نے 16 سالہ انتظار ختم کردیا۔
پاکستان ہاکی ٹیم نے 2014 کے ورلڈکپ کے لیے کوالیفائی نہیں کیا تھا، جبکہ 2018 کے عالمی کپ میں بھی قومی ٹیم کوئی میچ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔ اس کے بعد پاکستان 2023 کے ورلڈکپ کے لیے بھی کوالیفائی نہ کرسکا، جس کے باعث قومی ٹیم کی عالمی سطح پر موجودگی متاثر ہوئی۔
2026 کا ورلڈکپ پاکستان کے لیے آٹھ سال بعد عالمی سطح کے سب سے بڑے ہاکی ایونٹ میں واپسی کا موقع بھی ہے۔ قومی ٹیم نے مارچ 2026 میں مصر میں کھیلے گئے ورلڈکپ کوالیفائر کے سیمی فائنل میں بھی جاپان کو 4-3 سے شکست دے کر ورلڈکپ میں جگہ بنائی تھی۔ اس وقت بھی پاکستان نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے 3-1 کے خسارے سے واپسی کی تھی۔
تاہم موجودہ ورلڈکپ کے ابتدائی مرحلے میں پاکستان مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکا۔ قومی ٹیم انگلینڈ اور روایتی حریفوں کے خلاف شکستوں کا سامنا کرنے کے بعد دوسرے راؤنڈ کی دوڑ سے باہر ہوگئی، جبکہ ویلز کے خلاف میچ 3-3 سے برابر رہا۔ یوں عالمی ٹائٹل کی دوڑ سے باہر ہونے کے بعد پاکستان کو نویں سے 16ویں پوزیشن کے کلاسیفکیشن مرحلے میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کا موقع ملا۔
جاپان کے خلاف فتح نے اگرچہ پاکستان کو عالمی چیمپئن بننے کی دوڑ میں واپس نہیں پہنچایا، تاہم قومی ٹیم کے لیے یہ کامیابی کئی حوالوں سے حوصلہ افزا ہے۔ چار مرتبہ کی عالمی چیمپئن پاکستان ٹیم ایک طویل عرصے سے بین الاقوامی ہاکی میں اپنے ماضی کے شاندار مقام کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور جاپان کے خلاف دو گول کے خسارے سے واپسی اس جدوجہد میں ایک مثبت اشارہ قرار دی جا سکتی ہے۔
پاکستان کی موجودہ ٹیم نے ورلڈکپ میں شرکت کے لیے بھی ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ قومی ٹیم نے مارچ میں مصر کے شہر اسماعیلیہ میں ورلڈکپ کوالیفائر کے سیمی فائنل میں جاپان کو 4-3 سے شکست دے کر عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کیا تھا، جبکہ بعد ازاں فائنل میں انگلینڈ کے خلاف شکست کے ساتھ ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ جاپان نے کوالیفائر میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔
2026 کا ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈکپ 15 سے 30 اگست تک بیلجیم اور نیدرلینڈز میں کھیلا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان کے میچ نیدرلینڈز کے واگنر اسٹیڈیم میں منعقد ہو رہے ہیں۔
جاپان کے خلاف حالیہ کامیابی پاکستان ہاکی کے لیے محض ایک میچ کی فتح نہیں بلکہ ایک طویل انتظار کے خاتمے کی علامت بھی ہے۔ قومی ٹیم اب کلاسیفکیشن مرحلے کے بقیہ مقابلوں میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے اور عالمی ایونٹ کا اختتام مثبت انداز میں کرنے کی کوشش کرے گی۔ جاپان کے خلاف 4-3 کی فتح نے کم از کم یہ ثابت کردیا ہے کہ مشکلات کے باوجود قومی ٹیم میں مقابلے کا جذبہ اور دباؤ میں واپسی کی صلاحیت موجود ہے۔