امریکی جریدے کی نظر میں مکہ دفاعی معاہدہ، پاکستان کیلئے اسٹریٹجک وسعت اور سفارتی وزن میں اضافہ

واشنگٹن/اسلام آباد(کیو این این ورلڈ) معروف امریکی جریدے فارن پالیسی اِن فوکس (FPIF) نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو پاکستان کے لیے اسٹریٹجک وسعت، سفارتی لچک اور علاقائی توازن کے حصول کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ اسلام آباد کو مشرق وسطیٰ میں اپنے اثر و رسوخ اور سفارتی گنجائش کو بڑھانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

فارن پالیسی اِن فوکس میں 21 اگست 2026 کو شائع ہونے والے تفصیلی تجزیے “The Mecca Accord: A View from Islamabad” میں امریکی خارجہ پالیسی کے تجزیہ کار Eldar Mamedov نے مکہ دفاعی معاہدے کو پاکستان کے نقطۂ نظر سے جانچتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کے ذریعے اسلام آباد کو روایتی پاک چین شراکت داری سے آگے بڑھ کر مشرق وسطیٰ میں بھی ایک اہم تزویراتی گنجائش حاصل ہوئی ہے۔

مضمون کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت تینوں ممالک نے اجتماعی دفاع اور سلامتی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا۔ معاہدے کی بنیادی شق کے مطابق تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، جسے تجزیہ کار نیٹو کے اجتماعی دفاعی تصور سے مشابہ قرار دے رہے ہیں۔

امریکی جریدے کے مطابق مکہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کا روایتی امریکی مرکزیت پر مبنی سکیورٹی نظام تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور خطے کی بڑی طاقتیں اپنی سلامتی کے لیے نئے علاقائی انتظامات تشکیل دے رہی ہیں۔ تجزیے کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا اکٹھا ہونا اسی وسیع تر تبدیلی کی علامت ہے، جس میں علاقائی ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں اور باہمی شراکت داری پر زیادہ انحصار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مضمون میں پاکستان کے لیے معاہدے کی اہمیت کو خاص طور پر “اسٹریٹجک ڈیپتھ” کے تصور سے جوڑا گیا ہے۔ تجزیہ کار کے مطابق پاکستان کے لیے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون محض فوجی شراکت داری نہیں بلکہ اسلام آباد کو مشرق وسطیٰ میں سفارتی اثر و رسوخ، تزویراتی لچک اور مختلف علاقائی طاقتوں کے ساتھ بیک وقت تعلقات رکھنے کی اضافی گنجائش فراہم کرتا ہے۔

تجزیے میں تینوں ممالک کی مختلف صلاحیتوں کو بھی اس شراکت داری کی اہم طاقت قرار دیا گیا ہے۔ سعودی عرب کے پاس مالی وسائل اور خلیجی خطے میں سیاسی و مذہبی اثر و رسوخ ہے، ترکیہ ایک بڑی فوج اور ترقی یافتہ دفاعی صنعت رکھتا ہے، جبکہ پاکستان بڑی جنگی صلاحیت رکھنے والی فوج اور جوہری طاقت ہے۔ مصنف کے مطابق ان مختلف صلاحیتوں کا امتزاج مکہ معاہدے کو ایک منفرد علاقائی دفاعی انتظام بناتا ہے۔

امریکی جریدے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مکہ دفاعی معاہدے کی حمایت کو بھی پاکستان کے لیے اہم سفارتی اشارہ قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے 17 اگست کو معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے “BIG, BOLD, AND IMPORTANT FIRST STEP” قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے مشرق وسطیٰ میں ممالک اپنی سلامتی کے دفاع کے لیے زیادہ مؤثر انداز میں آگے بڑھ سکیں گے۔

FPIF کے تجزیے کے مطابق ٹرمپ کی حمایت اس بات کی علامت بھی ہے کہ واشنگٹن میں پاکستان کا سفارتی وزن اب بھی موجود ہے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی کردار کے بارے میں بحث کے باوجود پاکستان واشنگٹن کے لیے ایک ایسا ملک ہے جسے نظر انداز کرنا آسان نہیں، خصوصاً اس کے جغرافیائی محل وقوع، فوجی صلاحیت اور خطے میں سفارتی روابط کے باعث۔

مضمون میں مکہ دفاعی معاہدے کو ایران مخالف اتحاد یا کسی نئے فرقہ وارانہ بلاک کے طور پر دیکھنے سے بھی گریز کیا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی اور جغرافیائی تعلقات ہیں، سعودی عرب نے بھی ایران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ترکیہ کے تہران کے ساتھ اہم اقتصادی اور سیاسی تعلقات ہیں۔ اس لیے معاہدے کو براہ راست ایران کے خلاف عسکری اتحاد قرار دینا درست تجزیہ نہیں ہوگا۔

FPIF کے مطابق تینوں ممالک کی اصل تشویش بعض علاقائی مسلح گروہوں اور پراکسی تنازعات سے متعلق ہے، جن میں یمن کے حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر اور سعودی مفادات کے خلاف حملے بھی شامل ہیں۔ اس تناظر میں مکہ معاہدے کو ایک ایسے دفاعی اور مشترکہ ردِعمل کے فریم ورک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا مقصد ممکنہ جارحیت کی صورت میں مؤثر جواب دینے اور کسی بھی حملے کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

پاکستان کے تناظر میں تجزیے کا ایک اہم پہلو بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تزویراتی تعاون سے متعلق ہے۔ FPIF کے مطابق اسلام آباد بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اور دیگر شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کو اپنے علاقائی سکیورٹی ماحول کا اہم عنصر سمجھتا ہے۔ مضمون کے مطابق مکہ معاہدہ پاکستان کو سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ ایک ایسے علاقائی فریم ورک میں لاتا ہے جو اسلام آباد کے لیے اس بدلتے ہوئے تزویراتی ماحول میں اضافی گنجائش پیدا کرسکتا ہے۔

تجزیے میں سعودی عرب اور بھارت کے بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق بھارت اور سعودی عرب کے درمیان تجارت، توانائی، سرمایہ کاری اور انسانی روابط وسیع ہیں، اس لیے مکہ دفاعی معاہدے کو بھارت مخالف اتحاد قرار دینا بھی حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔ تاہم پاکستان کے لیے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی شراکت داری بھارت کے ساتھ طاقت کے علاقائی توازن میں ایک اضافی تزویراتی عنصر ضرور بن سکتی ہے۔

FPIF کے تجزیے کے مطابق پاکستان کی خارجہ پالیسی میں “ہیجنگ” یعنی مختلف طاقتوں کے ساتھ بیک وقت تعلقات برقرار رکھتے ہوئے اپنی سفارتی گنجائش محفوظ رکھنے کی حکمت عملی بھی مکہ معاہدے میں نمایاں ہوتی ہے۔ اسلام آباد ایک طرف چین کے ساتھ قریبی تزویراتی تعلقات رکھتا ہے، دوسری جانب امریکہ کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتا ہے، جبکہ سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کے ساتھ بھی اپنے روابط کو آگے بڑھا رہا ہے۔ مصنف کے مطابق مکہ معاہدہ پاکستان کو کسی ایک طاقت کے مکمل کیمپ میں جانے کے بجائے متعدد شراکت داریوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

مضمون میں معاہدے کی شمولیتی نوعیت کو بھی اس کی اہم خصوصیت قرار دیا گیا ہے۔ پاکستانی حکام پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں اور اس کے اصولوں کو تسلیم کرنے والے دیگر ممالک کے لیے بھی شمولیت کی گنجائش موجود ہے۔ اس پہلو کی وجہ سے تجزیہ کار اسے کسی سخت فوجی بلاک کے بجائے ایک زیادہ لچکدار علاقائی سکیورٹی فریم ورک کے طور پر دیکھتے ہیں۔

تاہم FPIF کا تجزیہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ مکہ معاہدے کی کامیابی محض دستخطوں سے یقینی نہیں ہوگی۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ دفاعی عزم کو کس حد تک عملی تعاون، دفاعی منصوبہ بندی، انٹیلی جنس شیئرنگ، فوجی تربیت اور بحران کی صورت میں مؤثر رابطہ کاری میں تبدیل کرتے ہیں۔

معاہدے کے بارے میں عالمی سطح پر یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا اسے “مسلم نیٹو” قرار دیا جاسکتا ہے۔ تجزیاتی حلقوں میں اس اصطلاح کا استعمال کیا جا رہا ہے، تاہم مکہ معاہدے کے حامی ممالک اسے کسی نئے مذہبی یا فرقہ وارانہ عسکری بلاک کے بجائے دفاعی اور علاقائی سلامتی کا انتظام قرار دے رہے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے معاہدے کی حمایت کے بعد اس کی عالمی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ٹرمپ کے حمایت پر مبنی بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے امریکی صدر کے الفاظ کو سراہا ہے۔

بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ محض تین ممالک کے درمیان ایک فوجی معاہدہ نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی، سفارتی اور اقتصادی روابط کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان کے لیے اس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اسلام آباد پہلی مرتبہ ایک ایسے علاقائی دفاعی فریم ورک کا مرکزی فریق بن رہا ہے جس میں ایک بڑی خلیجی طاقت اور ایک بڑی یورپی و ایشیائی فوجی طاقت اس کے ساتھ شریک ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے