گھوٹکی: (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی کے نواحی گاؤں حکیم تڑت میں زمین کے دیرینہ تنازع پر تڑت برادری کے دو گروہوں کے درمیان ہونے والا جھگڑا شدید خونی تصادم میں تبدیل ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک نوجوان جان کی بازی ہار گیا ہے۔ افسوسناک واقعے کے بعد پورے علاقے میں سوگ، کشیدگی اور خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اے سیکشن گھوٹکی تھانے کی حدود میں واقع گاؤں حکیم تڑت میں زمین کے معاملے پر جاری پرانے تنازع کے دوران دونوں فریقین اچانک ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے۔ تلخ کلامی کے بعد شروع ہونے والے اس جھگڑے کے دوران لوہے کے سریوں اور لاٹھیوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا، جس کی زد میں آ کر نوجوان عبدالوحید تڑت شدید زخمی ہو گیا۔ زخمی نوجوان کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
مقتول کے والد بشیر احمد تڑت نے مخالفین پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ زمین کے تنازع پر امین تڑت، صابر تڑت اور شہبان تڑت سمیت دیگر مسلح افراد نے ان کے بیٹے پر بے دردی سے حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حملہ آوروں نے لوہے کے سریوں اور لاٹھیوں کے پے در پے وار کر کے ان کے معصوم بیٹے کو بے دردی سے قتل کیا ہے، لہٰذا انہیں فوری گرفتار کر کے عبرتناک سزا دی جائے۔
خونی تصادم کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور صورتحال کو کنٹرول میں لیتے ہوئے مقتول کی لاش کو تحویل میں لے لیا۔ پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم اور ضروری قانونی کارروائی کے لیے تعلقہ اسپتال گھوٹکی منتقل کیا، جہاں ڈاکٹرز کی جانب سے پوسٹ مارٹم کی عملداری کے بعد مقتول کا جسدِ خاکی تدفین کے لیے غمزدہ ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ واقعے میں نامزد اور ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملوث ملزمان جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے اور واقعے کی ہر پہلو سے شفاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔