"کشمیر میں انتخابات اور افواجِ پاکستان”
"امن، استحکام اور جمہوریت کی ضامن”
تحریر: جان محمد رمضان
آزاد جموں و کشمیر کا خطہ اپنی جغرافیائی اہمیت اور تزویراتی (Strategic) حیثیت کے باعث ہمیشہ سے انتہائی حساس رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب لائن آف کنٹرول (LoC) پر دشمن کی جارحیت اور اندرونی و بیرونی سازشیں اس خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہمہ وقت سرگرم تھیں، وہاں پرامن جمہوری عمل کا انعقاد کسی چیلنج سے کم نہیں تھا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی آزاد کشمیر میں انتخابی عمل کا مرحلہ آیا، افواجِ پاکستان نے فرنٹ لائن پر آ کر نہ صرف سیکیورٹی کے فرائض انجام دیے بلکہ یہ ثابت کیا کہ اگر پاک فوج کا یہ کلیدی کردار نہ ہوتا تو یہاں جمہوریت کا تسلسل اور پرامن الیکشن کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو پاتا۔ ہم کمانڈر کشمیر، افسرانِ بالا افواجِ پاکستان، جوانانِ افواجِ پاکستان، گمنام ہیروز، کشمیر پولیس اور انتظامیہ کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے دن رات جاگتے ہوئے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر آزاد کشمیر میں بھارتی مداخلت کو ختم کرکے پرامن الیکشن کروائے اور کروا رہے ہیں۔
آزاد کشمیر کی سرحدیں براہِ راست مقبوضہ وادی اور بھارت سے جڑی ہوئی ہیں، جہاں دشمن ہمیشہ اس تاک میں رہتا ہے کہ کسی طرح آزاد خطے میں افراتفری اور سیاسی عدم استحکام پیدا کیا جائے۔ جس پر دشمن نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو اپنے حصار میں لے کر آزاد کشمیر میں امن تباہ کرنے کی مذموم کوشش کی، جس میں دشمن مکمل ناکام رہا۔ سب جانتے ہیں کہ الیکشن کا موقع کسی بھی معاشرے میں سیاسی درجہ حرارت کو بڑھا دیتا ہے، جس کا فائدہ اٹھانے کے لیے دشمن سرحد پار سے فائرنگ، شیلنگ اور تخریب کاری کی کوششیں کرتا ہے۔
ایسے کٹھن حالات میں پاک فوج لائن آف کنٹرول پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتی ہے۔ سرحدوں پر جوانوں کی چوکسی کی وجہ سے ہی وادی کے اندر کا ماحول پرامن ہے اور رہے گا۔ اگر افواجِ پاکستان سرحدوں کی حفاظت کا یہ فریضہ سرانجام نہ دے رہی ہوتیں تو انتخابی مہم چلانا تو دور کی بات، شہریوں کا گھروں سے نکلنا بھی محال ہو جاتا۔ سیکیورٹی کا یہ فول پروف حصار ہی سیاسی جماعتوں اور ووٹرز کو تحفظ کا احساس فراہم کرتا رہا۔ ووٹر حضرات نے بلا خوف اپنے اپنے امیدواروں کے نشانوں پر مہریں لگائیں۔ افواجِ پاکستان ہی بقائے امن و استحکام ہے۔ یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر کی تلخ زمینی حقیقت کا اعتراف ہے۔
سول انتظامیہ اور الیکشن کمیشن کے پاس اتنے بڑے پیمانے پر لاجسٹکس اور سیکیورٹی فورس موجود نہیں تھی جو بیک وقت پورے آزاد کشمیر کے پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں امن و امان قائم رکھ سکے۔ افواجِ پاکستان نے امن کی بنیاد رکھی۔
پاک فوج کی پولنگ اسٹیشنز پر موجودگی سیاسی تصادم، دھاندلی کے الزامات اور بوگس ووٹنگ کے خطرات کو جڑ سے ختم کر کے دکھایا ہے۔ عوام کا فوج پر لافانی اعتماد ہی انہیں بلا خوف و خطر ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشنز تک لاتا رہا ہے۔
الیکشن کے دوران مختلف جماعتوں کے حامیوں کے درمیان تصادم کے شدید خطرات تھے، جنہیں فوج کی غیر جانبدارانہ اور رعب دار موجودگی نے کنٹرول کیا اور شرپسند عناصر کو قانون ہاتھ میں لینے سے روکا۔ اگر فوج پسِ پردہ اور پولنگ اسٹیشنز پر الرٹ نہ ہو تو یہ انتخابی عمل خونی تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس سے خطے کا امن مکمل طور پر تباہ ہو سکتا تھا۔
آزاد کشمیر کا جغرافیہ انتہائی دشوار گزار، پہاڑی اور بعض مقامات پر برف پوش ہے۔ بہت سے پولنگ اسٹیشنز ایسے علاقوں میں ہوتے ہیں جہاں عام گاڑیوں کی رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ ان کٹھن مراحل میں افواجِ پاکستان اپنے لاجسٹک نیٹ ورک، ہیلی کاپٹروں اور گاڑیوں کے ذریعے الیکشن مٹیریل (بیلٹ بکس، بیلٹ پیپرز) کو بروقت اور محفوظ طریقے سے ان دور دراز علاقوں تک پہنچاتی رہی۔ الیکشن کے عملے کی بحفاظت منتقلی اور واپسی صرف اور صرف پاک فوج کی دن رات کی محنت اور قربانیوں کی بدولت ہی ممکن ہوئی ہے۔
ایک پرامن الیکشن ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے کشمیری عوام اپنی مقامی قیادت کا انتخاب کرتے ہیں، جو عالمی سطح پر تحریکِ آزادیِ کشمیر کا مقدمہ لڑتی ہے۔ اگر افواجِ پاکستان امن قائم نہ کرتیں اور الیکشن تعطل کا شکار ہو جاتے تو آزاد کشمیر میں آئینی بحران پیدا ہو جاتا۔ جمہوریت کا یہ تسلسل برقرار رکھنا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ دنیا کو دکھایا جا سکے کہ لائن آف کنٹرول کے اس طرف (آزاد کشمیر میں) عوام کو اپنے نمائندے چننے کی مکمل آزادی اور پرامن ماحول میسر ہے، جبکہ دوسری طرف کشمیریوں کو سنگینوں کے سائے میں جکڑا گیا ہے۔
آزاد کشمیر میں جمہوریت کا پودا افواجِ پاکستان کے لہو اور دن رات کی محنت سے پروان چڑھ رہا ہے۔ یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ افواجِ پاکستان کی موجودگی ہی آزاد کشمیر میں امن، استحکام اور انتخابی عمل کے پرامن انعقاد کی سب سے بڑی گارنٹی ہے۔ دشمن کی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود اگر کشمیر کا ووٹر آج اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال پرسکون ماحول میں کر رہا ہے تو اس کا سہرا پاک فوج کے ان گمنام غازیوں اور شہیدوں کے سر جاتا ہے جو سرحدوں اور پولنگ اسٹیشنز پر پہرہ دیتے ہیں۔
کشمیر کا امن اور افواجِ پاکستان کا وجود ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں، جن کے بغیر اس خطے میں خوشحالی اور جمہوریت کا تصور ناممکن ہے۔ ہم شہدائے افواجِ پاکستان کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ہم کشمیری محب وطن عوام کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے سیکیورٹی فورسز کا ساتھ دیا، دشمن کو بے نقاب کیا اور اسے منہ چھپانے پر مجبور کیا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ بھارتی دفتر خارجہ کی ترجمانی بھی کام نہ آ سکی۔
کشمیر پاکستان ہے، پاکستان کشمیر ہے۔ دشمن ہمیشہ ناکام ہی رہے گا۔ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل جنرل حافظ سید عاصم منیر ہمیشہ زندہ باد، کمانڈر کشمیر ہمیشہ زندہ باد۔