کوئٹہ کی کوئلہ کان میں گیس دھماکا، 34 مزدور زندگی کی بازی ہار گئے

کوئٹہ (کیو این این ورلڈ) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں ہونے والے ہولناک دھماکے کے نتیجے میں 34 کان کن جاں بحق ہو گئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق دھماکے کے وقت کان کے اندر 42 مزدور موجود تھے، جن میں سے 34 کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ریسکیو ٹیمیں دیگر مزدوروں کی تلاش اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

پی ڈی ایم اے حکام کے مطابق حادثہ میتھین گیس کے اخراج کے باعث پیش آیا، جس کے نتیجے میں کان کے اندر شدید دھماکا ہوا اور متعدد مزدور ملبے تلے دب گئے۔ ابتدائی مرحلے میں 18 کان کنوں کی لاشیں نکالی گئیں، بعد ازاں مزید 16 مزدوروں کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 34 ہو گئی۔

صوبائی وزیر مائنز اینڈ منرلز شعیب نوشیروانی نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں انتہائی دشوار حالات کے باوجود امدادی کارروائیاں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں اور متاثرہ کان میں پھنسے دیگر مزدوروں تک رسائی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس سانحے میں جاں بحق ہونے والے مزدوروں کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کو فی کس 5 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو فی کس 3 لاکھ روپے مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حادثے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں گی تاکہ اس کے اسباب اور ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے۔

کان کے مالک کے مطابق دھماکے کے وقت کان کے اندر 42 مزدور کام کر رہے تھے اور تمام مزدوروں کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کی وجہ میتھین گیس کا اخراج تھا۔

دریں اثنا وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سورینج میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ مائنز اینڈ منرلز سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے اور حادثے کی وجوہات کے ساتھ ساتھ ذمہ داروں کا بھی تعین کیا جائے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ اگر کسی بھی سطح پر غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے محکمہ مائنز اینڈ منرلز کو صوبے بھر کی تمام کوئلہ کانوں میں حفاظتی ضوابط پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے