ڈیرہ غازیخان (کیو این این ورلڈ/سٹی رپورٹر جواد اکبر) ڈیرہ غازی خان کے تھانہ وہوا کی سرحدی چوکی حضرت عمر فاروق (جھنگی) پر خوارجی دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے کانسٹیبل غلام عباس اور کانسٹیبل مدثر محمود کی نمازِ جنازہ پولیس لائنز ڈی جی خان میں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی ہے۔ اس موقع پر قومی پرچم میں لپٹے شہداء کے جسدِ خاکی پر پولیس کے اعلیٰ افسران نے پھول چڑھائے اور پولیس کے چاک و چوبند دستے نے شہداء کو سلامی پیش کی۔

نمازِ جنازہ میں ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب محمد کامران خان، آر پی او ڈی جی خان محمد اظہر اکرم، ممبرانِ صوبائی اسمبلی محمد حنیف خان پتافی اور اسامہ عبدالکریم، ڈی پی او صادق بلوچ، ڈپٹی کمشنر عثمان خالد، اور ایس پی انوسٹی گیشن عبدالرحیم نے شرکت کی۔ ان کے علاوہ پولیس، رینجرز، اور سول انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ افسران، سکیورٹی اداروں کے سربراہان، بار ایسوسی ایشن اور پریس کلب کے نمائندوں، سیاسی و سماجی شخصیات، شہریوں کی کثیر تعداد اور شہداء کے ورثاء بھی جنازے میں شریک ہوئے۔

ایڈیشنل آئی جی، آر پی او اور ممبرانِ اسمبلی سمیت تمام اعلیٰ حکام نے شہداء کے جسدِ خاکی پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور ان کے بلندیِ درجات کے لیے خصوصی دعا کی۔ ایڈیشنل آئی جی محمد کامران خان نے شہداء کے سوگوار ورثاء سے ملاقات کر کے تعزیت کا اظہار کیا اور شہداء کی قربانی کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہداء کا خون کسی صورت رائیگاں نہیں جائے گا اور شہداء کی فیملیز کو کسی بھی موڑ پر تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ دہشت گردوں کے بزدلانہ وار ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے، ہم مزید مضبوط ہو کر سیسہ پلائی دیوار کی مانند عوام کی حفاظت کریں گے۔

اس موقع پر آر پی او ڈیرہ غازی خان محمد اظہر اکرم کا کہنا تھا کہ ہمارے شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں، پنجاب پولیس قیامِ امن کے لیے پہلے بھی قربانیاں دیتی آئی ہے اور آئندہ بھی کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی، جبکہ شہداء کے بچوں کی مکمل کفالت کی جائے گی۔ پولیس لائنز میں نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد شہداء کے جسدِ خاکی کو مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں کی طرف روانہ کر دیا گیا، جہاں انہیں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا۔



