پولیس گاڑیاں جلانے کا کیس؛ یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری کو سزا

لاہور (کیو این این ورلڈ) انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں 9 مئی کو جی او آر ون کلب چوک کے گیٹ پر حملے اور پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمہ نمبر 852/2023 کا محفوظ فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ، سینیٹر اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید پر جرم ثابت ہونے پر ہر ایک کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس مقدمے میں مجموعی طور پر 7 سے 8 افراد کو سزائیں سنائی گئی ہیں جبکہ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ثبوتوں کی عدم موجودگی کے باعث بری کر دیا گیا ہے، جو کہ لاہور میں ان کا پانچواں مقدمہ ہے جس میں وہ بری ہوئے ہیں، ان کے ہمراہ دیگر 12 سے 13 ملزمان کو بھی عدالت نے بری کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ مقدمہ 9 مئی 2023 کو سابق وزیراعظم عمران خان کی اسلام آباد سے گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد احتجاج، جلاؤ گھیراؤ اور فوجی و سرکاری املاک پر حملوں کے تناظر میں درج کیا گیا تھا۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے پی ٹی آئی رہنماؤں پر مظاہرین کو اکسانے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات چلائے گئے، جس کی طویل سماعت کے بعد 19 دسمبر 2025 کو یہ اہم فیصلہ سامنے آیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف 9 مئی کے واقعات سے متعلق ملک کے مختلف شہروں میں درجنوں مقدمات درج ہیں جن میں اب تک سینکڑوں افراد کو سزائیں ہو چکی ہیں۔ فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے اگست 2025 میں عمر ایوب، شبلی فراز اور زرتاج گل سمیت 59 افراد کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی تھی، جبکہ راولپنڈی کی عدالت نے مارچ 2026 میں جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمر ایوب اور حماد اظہر سمیت 47 رہنماؤں کو عدم موجودگی میں 10، 10 سال قید کی سزا سنائی۔ پی ٹی آئی ان تمام عدالتی فیصلوں کو سیاسی انتقام قرار دے کر ہائی کورٹس میں چیلنج کر رہی ہے جبکہ حکومتی حلقے اسے قانون کی بالادستی قرار دے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے