محکمہ ہائی وے کی مبینہ بدعنوانی؛ ڈی جی خان میں 13 کروڑ کا وڈور پل چند ماہ میں زمین بوس

ڈیرہ غازی خان (کیو این این ورلڈ/خصوصی رپورٹ) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا سڑک بحالی پروگرام محکمہ ہائی وے کے افسران اور ٹھیکیدار کی مبینہ کرپشن کی نذر ہو گیا، جس کے نتیجے میں شہر سے محض 3 کلو میٹر دور ایم این اے عبد القادر کھوسہ کے حلقے میں 6 ماہ قبل تعمیر ہونے والا وڈور پل گر کر تباہ ہو گیا۔ پل کی اس اچانک تباہی سے تعمیراتی کام میں کروڑوں روپے کے گھپلے اور ناقص میٹریل کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔ وڈور روڈ پر موجود اس پل سے روزانہ بیلہ، وڈور، دلانہ اور زئی سمیت متعدد علاقوں کے ہزاروں لوگ شہر کی جانب سفر کرتے ہیں، مگر پل گرنے کی وجہ سے یہ اہم ترین راستہ گزشتہ 15 روز سے مکمل بند ہے اور یہ علاقے شہر سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق محکمہ ہائی وے کے افسران، جن میں سال 2024 سے فروری 2025 تک تعینات رہنے والے سابق ایکسیئن محمد شفیق، ایس ڈی او اسد الرحمان بھٹہ اور سب انجینئر وسیم صادق شامل ہیں، نے ٹھیکیدار فیصل کوریجہ کی کمپنی ارشاد کنسٹرکشن کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کی اور 13 کروڑ روپے مالیت سے بننے والے ناقص و نامکمل روڈ میں اس پل کی تعمیر کا بل بھاری کٹوتیوں کے ساتھ پاس کروا لیا۔ علاقائی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسی پل کا منصوبہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کی رود کوہیوں کے بعد بھی منظور ہوا تھا، جس کے 88 لاکھ روپے کے بل نکلوا کر رقم ہڑپ کی گئی تھی۔ اب سب انجینئر وسیم صادق ریٹائر ہو چکے ہیں جبکہ ایکسیئن شفیق اپنا تبادلہ کروا کر نکل گئے ہیں۔ اسی طرح ایس ڈی او اسد الرحمان بھٹہ نے 19 کلو میٹر طویل منصوبے میں روڈ کے 400 فٹ کے محض 6 سے 10 ٹکڑے تعمیر کروا کر مال غنیمت لوٹا اور ترقی پا کر ایکسیئن تونسہ اور پھر ایکسیئن مظفرگڑھ تعینات ہو گئے، جبکہ منصوبے کو موجودہ ایس ڈی او احمد قریشی، سب انجینئر شفیع کھوسہ، ایکسیئن محمد وقاص اور ایس ای حسنین زیدی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔

علاقائی حالتِ زار کے مطابق 13 کروڑ روپے کی لاگت سے 19 کلو میٹر طویل سڑک کو پختہ کرنے، چند پلیاں اور موجودہ وڈور پل بنانے کا اسٹیمیٹ شامل تھا، جو کہ زمین پر کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ افسران نے مبینہ طور پر پرانی پلیوں اور پرانے روڈ پر ہی پیلے اور سفید رنگ کی لائنیں لگا کر اسے نئی سڑک ظاہر کیا اور قومی خزانے سے پیسے نکلوا لیے۔ چند ماہ میں ہی زمین بوس ہونے والے اس پل کا جائزہ لینے کے لیے تاحال ہائی وے افسران، ڈی سی، کمشنر یا محکمہ انہار کا کوئی اہلکار موقع پر نہیں پہنچا۔ انتظامیہ کی اس بے حسی کے بعد مقامی زمیندار حفیظ ماچھی روزانہ کی بنیاد پر اپنی جیب سے ڈیزل کا خرچ برداشت کر کے ٹریکٹر بلیڈ کے ذریعے مٹی ڈال کر عارضی راستہ بحال کرتے ہیں، جس سے گزرنے والوں کو کچھ ریلیف ملتا ہے۔

اس سنگین صورتحال پر اہل علاقہ نے علامتی طور پر ہاتھ کھڑے کر کے شدید احتجاج کیا ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، جنرل آڈیٹر لاہور، چیف سیکرٹری پنجاب زمان اختر، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو سے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ مظاہرین نے ناقص میٹریل استعمال کرنے والے کرپٹ سابق و موجودہ افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے، ٹھیکیدار فیصل کوریجہ کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ درج کرنے اور سال 2022 میں منظور ہونے والے فنڈز کا بھی ازسرنو آڈٹ کروانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے