لنڈی کوتل (کیو این این ورلڈ / نصیب شاہ شنواری) ضلع خیبر میں ہونے والی موسلا دھار بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں مختلف واقعات میں 6 افراد جاں بحق جبکہ درجن سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ شدید بارشوں کے باعث متعدد علاقوں میں ندی نالے بپھر گئے، رابطہ سڑکیں متاثر ہوئیں اور کئی مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔
سب سے افسوسناک واقعہ تحصیل لنڈی کوتل کے علاقے سلطان خیل مصطفیٰ فرش میں پیش آیا، جہاں افغانستان واپس جانے والے ایک افغان خاندان کی گاڑی تیز رفتار سیلابی ریلے میں بہہ گئی۔ ابتدائی طور پر گاڑی میں سوار تین افغان شہری لاپتہ ہو گئے تھے، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو 1122 خیبر، مقامی انتظامیہ اور علاقہ مکینوں نے مشترکہ سرچ آپریشن شروع کیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مسلسل کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے تینوں افراد کی لاشیں مختلف مقامات سے برآمد کر لی گئیں۔ ایک خاتون اور ایک مرد کی لاش جمرود کے علاقے جبہ خوڑ قدم سے ریسکیو 1122 کی غوطہ خور ٹیموں اور مقامی افراد کی مشترکہ کوششوں سے نکالی گئی، جبکہ تیسرے کمسن بچے کی لاش پڑانگ سنگ کے مقام سے برآمد ہوئی۔ تمام لاشوں کو ضروری قانونی کارروائی کے لیے منتقل کر دیا گیا۔
ریسکیو اور مقامی ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں تین افغان شہری شامل ہیں، جبکہ دیگر جاں بحق افراد میں فرحان ولد راصم گل سکنہ جبہ جمرود، لنڈی کوتل کے علاقے صدوخیل کا رہائشی ابوزر ولد عمران اور سیف اللہ ولد عرفات شامل ہیں، جو مختلف مقامات پر سیلابی ریلوں کی زد میں آ کر جان کی بازی ہار گئے۔
شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث لنڈی کوتل اور گردونواح میں متعدد رابطہ سڑکیں متاثر ہوئیں، جبکہ 10 سے زائد گھروں کی چاردیواریاں منہدم یا جزوی طور پر تباہ ہو گئیں۔ درجن سے زائد زخمی افراد کو ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا۔
ریسکیو 1122 خیبر کی امدادی ٹیمیں مختلف متاثرہ علاقوں میں مسلسل سرگرم ہیں۔ ادارے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے دوران ندی نالوں، برساتی گزرگاہوں اور خطرناک مقامات سے دور رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر 1122 پر رابطہ کریں۔
دریں اثنا مقامی سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاک افغان شاہراہ اور دیگر حساس مقامات پر سیلابی گزرگاہوں کے اوپر مستقل پل تعمیر کیے جائیں، نکاسیٔ آب کا مؤثر نظام قائم کیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی امداد فراہم کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک سانحات سے بچا جا سکے۔