مکہ مکرمہ (کیو این این ورلڈ) دنیا بھر سے آئے لاکھوں فرزندانِ اسلام نے “لبیک اللھم لبیک” کی صداؤں کے ساتھ مناسکِ حج کا آغاز کر دیا ہے جبکہ عازمینِ حج کی خیموں کے شہر منیٰ آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ روح پرور مناظر کے دوران حجاج کرام عبادات، دعاؤں اور تلبیہ کی صداؤں میں مصروف ہیں۔
حج حکام کے مطابق حجاج کرام کی منیٰ آمد دن بھر جاری رہے گی جبکہ تمام عازمین پیر کی شب منیٰ میں قیام کریں گے۔ منیٰ میں لاکھوں عازمین کے لیے وسیع پیمانے پر خیموں، خوراک، پانی، ٹرانسپورٹ اور طبی سہولیات کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ عبادات کی ادائیگی میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔
حج کے اہم ترین رکن وقوفِ عرفہ کے لیے منگل 9 ذوالحجہ کو نمازِ فجر کے بعد عازمین منیٰ سے میدان عرفات روانہ ہوں گے جہاں وہ خطبۂ حج سنیں گے اور ظہر و عصر کی نمازیں اکٹھی ادا کریں گے۔ وقوفِ عرفہ کے بعد حجاج کرام مغرب کے بعد مزدلفہ روانہ ہوں گے جہاں وہ رات کھلے آسمان تلے عبادات میں گزاریں گے اور رمی جمرات کے لیے کنکریاں جمع کریں گے۔
دوسری جانب سعودی محکمہ موسمیات نے حج کے دوران شدید گرمی کی لہر سے متعلق خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ اور اطراف کے علاقوں میں درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ہوا میں نمی کا تناسب 40 فیصد تک رہنے اور کھلے علاقوں میں گرد آلود ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے۔
سعودی حکام نے عازمینِ حج کو ہدایت کی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ پانی استعمال کریں، دھوپ سے بچاؤ کے لیے چھتریوں کا استعمال کریں اور غیر ضروری طور پر کھلے مقامات میں زیادہ دیر قیام سے گریز کریں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیرونِ ملک سے آنے والے حجاج کی تعداد 15 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جن میں بڑی تعداد فضائی راستے سے سعودی عرب پہنچی۔ حکام کے مطابق تقریباً 30 فیصد عازمین “مکہ روٹ انیشی ایٹو” کے ذریعے سعودی عرب پہنچے، جس کے تحت امیگریشن اور سفری مراحل پہلے ہی مکمل کر لیے گئے تھے۔
حجاج کرام کی سہولت کے لیے جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل رہنمائی نظام، کولنگ فینز، سایہ دار راستوں، طبی مراکز اور ہنگامی امدادی ٹیموں کا بھی خصوصی انتظام کیا گیا ہے تاکہ شدید گرمی کے باوجود عازمین کو زیادہ سے زیادہ سہولت اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔