رینالہ خورد (نامہ نگار): چک نمبر 2 ون ایل، شیر گڑھ روڈ پر واقع سرکاری کھال مبینہ تجاوزات، غیر قانونی تعمیرات اور سیوریج کے آلودہ پانی کے باعث شدید متاثر ہوگیا، جس کے نتیجے میں زرعی زمینوں تک نہری پانی کی فراہمی میں مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔ علاقہ مکینوں اور کاشتکاروں نے محکمہ آبپاشی اور اعلیٰ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق موگہ نمبر 67340، راجباہ ون ایل، موضع چک نمبر 2 ون ایل میں واقع سرکاری کھال کی مجموعی لمبائی تقریباً 3300 فٹ جبکہ چوڑائی ساڑھے 16 فٹ بتائی جاتی ہے۔ مقامی کاشتکاروں کے مطابق کھال کے رقبے پر مبینہ طور پر دکانیں اور دیگر تعمیرات قائم کرکے تجاوزات کی گئی ہیں، جبکہ کئی مقامات پر کھال کو سلیب اور کنکریٹ کے ذریعے مکمل طور پر ڈھانپ دیا گیا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ کھال پر تجاوزات اور اسے ڈھانپے جانے کے باعث صفائی اور پانی کی روانی کا نظام بری طرح متاثر ہوچکا ہے۔ متعدد مقامات پر نہری پانی کی روانی انتہائی کم ہوگئی ہے جبکہ بعض حصوں میں تجاوزات کے باعث زرعی زمینوں تک پانی کی فراہمی تقریباً بند ہونے کے برابر ہے، جس سے کاشتکاروں کو فصلوں کی آبپاشی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اہل علاقہ کے مطابق مبینہ طور پر غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں اور آبادیوں کا سیوریج کا آلودہ پانی بھی سرکاری کھال میں چھوڑا جارہا ہے، جس کے باعث کھال کا پانی آلودہ ہونے کے ساتھ علاقے میں بدبو اور مچھروں کی افزائش میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ آلودہ پانی سے انسانوں اور مویشیوں کی صحت کو بھی خطرات لاحق ہیں۔
کاشتکاروں کے مطابق کھال میں سیوریج کا پانی اور کچرا جمع ہونے کے باعث اس کی صفائی بھی مشکل ہوگئی ہے، جبکہ آلودہ ماحول اور پانی کے باعث جلدی بیماریوں کے خدشات بھی پیدا ہوگئے ہیں۔ نہری پانی کی بروقت فراہمی نہ ہونے سے فصلوں اور سبزیوں کی کاشت متاثر ہورہی ہے اور بعض زرعی اراضی پانی کی کمی کے باعث بنجر ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔
اہل علاقہ اور کسانوں نے اعلیٰ حکام اور محکمہ آبپاشی سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری کھال کا فوری سروے کروا کر اس پر قائم مبینہ تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات ختم کرائی جائیں، کھال کا اصل رقبہ واگزار کرایا جائے اور اسے صفائی کے بعد مکمل طور پر بحال کیا جائے۔
کاشتکاروں نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ کھال میں سیوریج کا آلودہ پانی چھوڑنے والوں کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ نہری پانی کی روانی بحال ہونے کے ساتھ ساتھ علاقے میں پیدا ہونے والے ماحولیاتی اور صحت کے مسائل کا بھی خاتمہ ہوسکے۔