تہران (کیو این این ورلڈ): ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سیاسی نائب بریگیڈیئر جنرل یداللّٰہ جوانی نے کہا ہے کہ جنگ کا خاتمہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ نکات کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ امریکا کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کے تحت ذمہ داریاں پوری کیے جانے کی صورت میں ہی آبنائے ہرمز کھولنے پر غور کیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یداللّٰہ جوانی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے موجودہ صورتحال جنگ سے قبل کی حالت پر واپس نہیں جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادی آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران سے حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
ایرانی جنرل کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان جاری بات چیت کا مقصد جنگ کے حتمی خاتمے اور جنگ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے معاملات طے کرنا ہے۔
یداللّٰہ جوانی نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ امریکا کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے مشروط ہے، جبکہ جنگ کے خاتمے کے لیے بھی مذکورہ مفاہمتی یادداشت کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔