اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) اسلام آباد میں ہونے والے تاریخی مذاکرات کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی سرگرمیاں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں، جس سے کسی حتمی معاہدے کی امید برقرار ہے۔ امریکی عہدیداروں کے مطابق، اگرچہ حالیہ بیٹھک کسی باقاعدہ نتیجے کے بغیر ختم ہوئی تھی، تاہم پسِ پردہ دونوں فریقین سنجیدگی سے رابطے میں ہیں۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات مسلسل 24 گھنٹے جاری رہے، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک غیر ملکی میڈیا انٹرویو میں تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی گفتگو مثبت رہی اور متعدد اہم امور پر نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت نے اس سطح پر ملاقات کی ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب گیند تہران کے کورٹ میں ہے اور اگلے مرحلے کا انحصار ایران کے اقدامات پر ہے۔ تاہم، انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکا کی ‘ریڈ لائن’ یہ ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے اور آبنائے ہرمز کو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے کھلا رکھا جائے۔
دوسری جانب، حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے ان سفارتی کوششوں کو بے سود قرار دیتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ اپنے خصوصی پیغام میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل "گریٹر اسرائیل” کے توسیع پسندانہ منصوبے پر عمل پیرا ہے اور امریکا اس کی مکمل پشت پناہی کر رہا ہے۔ نعیم قاسم کا کہنا تھا کہ اسرائیل لبنان، شام، مصر اور اردن کے علاقوں پر نظریں جمائے ہوئے ہے اور جنوبی لبنان میں بفر زون بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جسے حزب اللہ کے جنگجو ناکام بنا دیں گے۔
حزب اللہ کے سربراہ نے لبنان کے صدر جوزف عون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل لبنانی عوام کے درمیان تقسیم پیدا کرنا چاہتا ہے، لیکن ہم اپنی سرزمین کا ایک میٹر حصہ بھی کسی کو نہیں دیں گے۔ انہوں نے جنگ بندی کے لیے بے گھر شہریوں کی واپسی اور تباہ شدہ علاقوں کی تعمیرِ نو کو بنیادی شرط قرار دیا۔ نعیم قاسم نے زور دیا کہ جب تک اندرونی طور پر تمام فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہوتا، کسی کو اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا حق نہیں ہے، اور فی الحال اولین ترجیح جارحیت کا مقابلہ کرنا ہے۔