عالمی توانائی کے منظرنامے میں بڑی تبدیلی: تیل پر انحصار کم، متبادل ذرائع میں چین کی اجارہ داری

آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی ترسیل میں تعطل نے عالمی معیشت کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ جہاں دنیا بھر میں تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافے نے ترقی پذیر ممالک کے لیے معاشی چیلنجز پیدا کیے ہیں، وہیں اب توانائی کے تحفظ کے لیے صاف اور متبادل ذرائع کی طلب میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال میں چین نے متبادل توانائی کی سپلائی چین پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے عالمی منڈی میں واضح برتری حاصل کر لی ہے، جس سے مستقبل کا جغرافیائی اور سیاسی نقشہ مکمل طور پر تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے۔

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے باوجود، امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے اعلان نے عالمی تیل و گیس کی ترسیل کے حوالے سے شدید غیر یقینی کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ اس جغرافیائی سیاسی تناؤ کے نتیجے میں دنیا بھر میں توانائی کی ترجیحات تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں، اور تیل کی جگہ توانائی کے متبادل اور صاف ذرائع کی طلب میں تاریخی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، عام حالات میں دنیا کی تیل و گیس کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ (تقریباً 2 کروڑ بیرل روزانہ) آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ تاہم، ایک ماہ قبل امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد یہ ترسیل تقریباً مکمل طور پر رک گئی۔ اس تاریخی خلل کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں، جس کے شدید اثرات خاص طور پر ایشیا اور ان ترقی پذیر ممالک پر پڑے جو توانائی کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کے اثرات عالمی توانائی کے شعبے پر طویل عرصے تک جاری رہیں گے اور ممکن ہے کہ عالمی توانائی کا منظرنامہ اب کبھی پہلے جیسا نہ رہے۔ معروف ویب سائٹ ‘آئل پرائس ڈاٹ کام’ کے مطابق، موجودہ غیر یقینی صورتحال میں توانائی کے تحفظ اور استحکام کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، صاف توانائی جو سالہا سال سے ایک اخلاقی ذمہ داری سمجھی جاتی تھی، اب ایک معاشی اور جغرافیائی سیاسی ضرورت بن چکی ہے، کیونکہ اب بات صرف ماحولیاتی آلودگی کی نہیں بلکہ سپلائی کے استحکام اور قیمتوں میں توازن کی ہے۔

اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں چین نے ایک بار پھر بازی مار لی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، متبادل، صاف اور ماحول دوست توانائی کی پیداوار کرنے والی چینی کمپنیوں کی برآمدات میں ریکارڈ 57 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ چونکہ چین عالمی صاف توانائی سپلائی چین (جیسے سولر پینلز، ونڈ ٹربائنز، بیٹریاں اور الیکٹرک گاڑیاں) کے ایک بڑے حصے کو کنٹرول کرتا ہے، اس لیے یہ صورتحال چینی کمپنیوں کے لیے نہایت فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے۔ اس سے انہیں عالمی منڈیوں میں اپنی برتری کو مزید مستحکم کرنے کا موقع مل رہا ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جو آبنائے ہرمز کے بحران کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔

ماہرین کے مطابق، آنے والے وقت میں ہوا اور شمسی توانائی جیسے مقامی ذرائع میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، کیونکہ یہ نہ صرف سستے ہیں بلکہ توانائی کی خود مختاری کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ جیسا کہ ایک ماہر نے خوبصورت الفاظ میں کہا: "ہوا اور سورج کی توانائی کو نہ روکا جا سکتا ہے، نہ اس کی ناکہ بندی کی جا سکتی ہے اور نہ ہی کوئی بیرونی طاقت اسے بند کر سکتی ہے۔ صاف توانائی کا ہر وہ یونٹ جو مقامی طور پر پیدا کیا جائے، وہ ایک ایسا ذریعہ ہے جسے کوئی دشمن بطور ہتھیار استعمال نہیں کر سکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے