ڈیرہ غازی خان: مدر اینڈ چائلڈ منصوبے کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف

ڈیرہ غازی خان (کیو این این ورلڈ/محمد عامر قادری کی رپورٹ) محکمہ بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کے تحت مدر اینڈ چائلڈ منصوبے کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیوں اور من پسند ٹھیکیداروں کو نوازنے کے الزامات سامنے آگئے ہیں، جبکہ شہری حلقوں نے معاملے کا فوری نوٹس لے کر ٹینڈرز منسوخ کرنے اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مدر اینڈ چائلڈ منصوبے کے ٹینڈرز کمشنر آفس اور ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ اینڈ فنانس کے دفتر میں اوپن کیے گئے، تاہم الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ منصوبہ سیریل نمبر 4 میں محکمہ بلڈنگ کے ایکسیئن کلیم دستی اور ایس ای بلڈنگ کی مبینہ ملی بھگت سے سندھ سے بلیک لسٹ قرار دی جانے والی کمپنی M/s Colts Engineering LLP کو صرف چار فیصد کم ریٹ پر ٹھیکہ ایوارڈ کر دیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے میں شفافیت برقرار رکھنے کے بجائے مبینہ طور پر مخصوص ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے بار بار کوریجنڈم جاری کیے جاتے رہے۔ الزام یہ بھی عائد کیا گیا ہے کہ متعلقہ اشتہارات اخبارات میں نمایاں انداز میں شائع کرنے کے بجائے خاموشی سے پیپرا ویب سائٹ پر تبدیلیاں کی جاتی رہیں تاکہ دیگر ٹھیکیدار مؤثر انداز میں حصہ نہ لے سکیں۔

ذرائع کے مطابق مدر اینڈ چائلڈ منصوبے کے ٹینڈرز تقریباً تین ماہ قبل سابق ایکسیئن محمد وقاص کے دور میں 15 سے 26 فیصد کم ریٹس پر مقابلے کے بعد الرحمت کمپنی اور رانا محمد اختر کی کمپنی کو دیے گئے تھے، جن میں ہر منصوبے کیلئے 10 سے 15 ٹھیکیداروں نے حصہ لیا تھا اور سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا تھا۔

بعد ازاں ٹیکنیکل اعتراضات اور مبینہ پول کی اطلاعات سامنے آنے پر ان ٹینڈرز کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ بعد میں نئے تعینات ہونے والے ایکسیئن کلیم دستی نے دوبارہ اشتہار جاری کیا، جس کے مطابق 22 اپریل 2026 کو کمشنر آفس میں ٹینڈرز اوپن ہونا تھے، تاہم فیصلہ نہ ہونے اور مبینہ اختلافات کے باعث یہ عمل بھی منسوخ کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق 22 اپریل کو ٹینڈرز منسوخ ہونے کے بعد چند روزہ کوریجنڈم جاری کیا گیا اور 30 اپریل 2026 کو دوبارہ ٹینڈرز اوپن کیے جانے تھے، مگر ٹھیکیداروں کے اعتراضات کے باعث یہ مرحلہ بھی مکمل نہ ہو سکا۔ بعد ازاں خاموشی سے 6 مئی 2026 کا نیا کوریجنڈم جاری کیا گیا اور مبینہ طور پر محدود تعداد میں من پسند ٹھیکیداروں کو بلا کر ٹینڈرز اوپن کیے گئے، جبکہ منصوبے بھی انہی کمپنیوں کو ایوارڈ کر دیے گئے۔

میڈیا ذرائع کے مطابق ٹیکنیکل طور پر بھی متعدد بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ ایکسیئن اور ایس ای کی جانب سے اخبار میں مناسب اشتہار دیے بغیر صرف پیپرا پر کارروائی چلانا شفافیت کے اصولوں کے منافی ہے۔ ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مبینہ بلیک لسٹ کمپنی کے دستاویزی شواہد میڈیا نمائندگان کو دکھائے گئے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ ٹھیکیدار سیاسی حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتا ہے اور مبینہ طور پر بیوروکریسی اور میڈیا پر دباؤ ڈالنے کے حربوں سے بھی واقف ہے، جس کے باعث دیگر ٹھیکیدار کھل کر سامنے آنے سے گریزاں ہیں۔

دوسری جانب ڈیرہ غازی خان کے شہریوں نے وزیراعظم پاکستان شہبازشریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف، وفاقی وزیر اویس لغاری، ایم این اے محمود قادر لغاری، ایم پی اے اسامہ عبد الکریم، ایم پی اے حنیف پتافی، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان، سیکرٹری ہیلتھ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور چیف انجینئر بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، متنازع ٹینڈرز منسوخ کیے جائیں اور ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ منصوبے کو دوبارہ مشتہر کر کے مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر ٹینڈرنگ کا عمل یقینی بنایا جائے تاکہ قومی خزانے کا تحفظ ہو سکے۔

دوسری جانب جب مؤقف جاننے کیلئے ایکسیئن محکمہ بلڈنگ کلیم دستی سے ان کے موبائل نمبر پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کال ریسیو نہیں کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے