ڈیرہ غازی خان (کیو این این ورلڈ / سٹی رپورٹرجواد اکبر) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حکم پر ملک بھر کی طرح ڈیرہ غازی خان میں بھی کمر توڑ مہنگائی اور ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے کی قیادت جمعیت علمائے اسلام پنجاب کے نائب امیر مولانا قاری جمال عبد الناصر، مرکزی شوریٰ کے رکن ملک فیض محمد ایڈووکیٹ اور ضلعی امیر عبد العزیز بلوچ سمیت دیگر ضلعی قائدین نے کی۔ مظاہرے کے دوران شرکاء نے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی معاشی پالیسیوں کے خلاف سخت نعرہ بازی کی اور نئے ٹیکسوں پر گہری ناراضگی کا اظہار کیا۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی کے قائدین نے کہا کہ قوم نے گزشتہ 80 سالوں سے تمام سیکولر جماعتوں کو آزما کر دیکھ لیا ہے، لیکن ملک کو صرف مایوسی اور معاشی تباہی ہی ملی۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پاکستان کی حقیقی خوشحالی، ترقی اور امن صرف اور صرف اسلامی نظامِ حیات سے وابستہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی حکومت کے ظالمانہ ٹیکسوں اور بے تحاشا مہنگائی کے خلاف تاجروں اور غریب مزدوروں کے ساتھ اس مشکل گھڑی میں چوکوں چوراہوں پر کھڑی ہے اور اگر کوئی جماعت عملی طور پر میدانِ عمل میں عوام سے یکجہتی کر رہی ہے تو وہ صرف مولانا فضل الرحمان کی قیادت ہے۔
قائدین نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے میدانِ عمل میں نکلیں اور مولانا فضل الرحمان کے دست و بازو بنیں، کیونکہ وہ وقت اب قریب ہے جب ملک میں اسلامی نظام نافذ ہوگا اور گزشتہ 80 سالوں سے لوٹی ہوئی قومی رقم کا کڑا احتساب کیا جائے گا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ قوم کی پائی پائی کا حساب لے کر غریبوں کو ان کے حقوق ہر صورت دلوائے جائیں گے۔ اس موقع پر قاری محمد اسماعیل کھلول، مولانا عابد الرحمن، الحاج عبد المجید ڈیوآنی، مولانا شاہد ندیم، مولانا کلیم اللہ ملکانی، مفتی محمد امجد مانک، مولانا محمد عثمان گوندل اور مولانا عبداللطیف تونسوی سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور حکومتی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔