گھوٹکی (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار مشتاق علی لغاری) سندھ رینجرز اور پولیس کی مشترکہ حکمتِ عملی اور کچے کے علاقوں میں مسلسل دباؤ کے نتیجے میں امن و امان کے قیام کے لیے ایک بہت بڑی اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مختلف سنگین اور سنسنی خیز مقدمات میں ملوث 51 خطرناک ملزمان نے اجتماعی طور پر اپنے ہتھیار ڈال کر خود کو باقاعدہ قانون کے حوالے کر دیا۔ پولیس کے مطابق ہتھیار ڈالنے والے ان ملزمان میں ستار دینو سندرآنی، جام سندرآنی، گھنور سندرآنی، غلام حیدر سندرآنی اور ثناءُ اللہ سندرآنی سمیت دیگر نامی گرامی ملزمان شامل ہیں، جو طویل عرصے سے قتل، اقدامِ قتل، ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان جیسی سنگین ترین وارداتوں میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی مطلوب تھے۔
ذرائع کے مطابق ان روپوش ملزمان نے ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران، سندھ رینجرز کے اعلیٰ حکام، ڈی ایس پی زاہد حسین میرآنی اور ایس ایچ او قابل بھیو کی خصوصی موجودگی میں تھانہ آندل سندرآنی پر خود پیش ہو کر باقاعدہ گرفتاری پیش کی۔ اس موقع پر ملزمان نے قانون کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے زیرِ استعمال مختلف اقسام کے جدید خودکار ہتھیار اور بھاری مقدار میں گولیوں کا ذخیرہ بھی فورسز کے حوالے کیا۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ بڑی کامیابی فورسز کی مربوط انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں اور کچے میں جرائم پیشہ گینگز کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا نتیجہ ہے، جس نے ملزمان کو سرنڈر کرنے پر مجبور کیا۔
ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ضلع بھر میں امن و امان کی بحالی اور قانون کی رٹ ہر صورت قائم کی جائے گی، جو عناصر شہریوں کے جان و مال سے کھیلیں گے ان کے خلاف ریاست پوری طاقت سے نمٹے گی۔ انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کے مکمل خاتمے تک یہ ٹارگیٹڈ آپریشنز بلاامتیاز جاری رہیں گے، جبکہ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ پولیس کا ساتھ دیں۔ دوسری طرف مقامی شہریوں نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس بڑے ایکشن سے علاقے میں طویل عرصے بعد احساسِ تحفظ پیدا ہوگا اور امن قائم ہوگا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے باقاعدہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور ان کے باقی ماندہ سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔