لنڈی کوتل (کیو این این ورلڈ/بیورورپورٹ)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی رہنما حاجی شاہ حسین شینواری نے کہا ہے کہ گزشتہ دس ماہ سے طورخم بارڈر کی طویل بندش کے باعث ضلع خیبر خصوصاً لنڈی کوتل کی معیشت شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے، جبکہ ہزاروں مزدور، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری افراد روزگار سے محروم ہو گئے ہیں۔
لنڈی کوتل بازار میں باچا خان چوک پر طورخم بارڈر کی مسلسل بندش کے خلاف منعقدہ احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرحد کی بندش نے مقامی تجارت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ تجارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی کمی کے باعث کاروباری حلقے شدید مشکلات کا شکار ہیں اور متعدد خاندان معاشی پریشانیوں اور فاقہ کشی جیسی صورتحال سے دوچار ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ طورخم بارڈر پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت اور آمدورفت کا ایک اہم مرکز ہے، جس کی بندش سے نہ صرف مقامی کاروبار متاثر ہوا ہے بلکہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کے گھروں کے چولہے بھی ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ عوام اور تاجر برادری طویل عرصے سے مشکلات برداشت کر رہے ہیں لیکن اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔
حاجی شاہ حسین شینواری نے کہا کہ ضلع خیبر کی معیشت کا بڑا انحصار سرحدی تجارت پر ہے، اس لیے طورخم بارڈر کی بندش کے اثرات براہ راست عوام کی زندگیوں پر پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مقامی آبادی کی مشکلات اور معاشی نقصان کا فوری نوٹس لیا جائے۔
انہوں نے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ طورخم بارڈر کو فوری طور پر کھولنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ تجارتی سرگرمیاں بحال ہوں، مقامی معیشت کو سہارا ملے اور بے روزگار ہونے والے ہزاروں افراد کو دوبارہ روزگار کے مواقع میسر آ سکیں۔
مصدقہ خبریں، ذمہ دارانہ صحافت
کیو این این ورلڈ