سیالکوٹ (کیو این این ورلڈ/شاہد ریاض)سیالکوٹ رنگ روڈ منصوبے کے مجوزہ روٹ کے خلاف آڈا، ہپو گڑھا اور ملحقہ علاقوں کے مکینوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے منصوبے پر نظرِ ثانی اور متبادل روٹ اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ احتجاج میں شہریوں، بزرگوں، مزدوروں، تاجروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنے تحفظات کے حق میں نعرے بازی کی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ رنگ روڈ منصوبے کے موجودہ روٹ کی وجہ سے سینکڑوں رہائشی مکانات، مساجد، دکانیں اور کاروباری مراکز متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے متعدد خاندان بے گھر اور ہزاروں افراد روزگار سے محروم ہو سکتے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ ترقیاتی منصوبوں کی مخالفت نہیں کی جا رہی، تاہم ایسے منصوبے عوامی مفادات اور بنیادی انسانی حقوق کو مدنظر رکھ کر مکمل کیے جانے چاہئیں۔
احتجاجی شرکاء نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں اگر ان کے گھروں اور کاروباروں کو نقصان پہنچا تو متاثرہ خاندان شدید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت منصوبے کے روٹ کا ازسرنو جائزہ لے اور ایسا متبادل راستہ اختیار کرے جس سے آبادیوں، عبادت گاہوں اور کاروباری مراکز کو کم سے کم نقصان پہنچے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر منصوبے کے تحت زمین یا املاک کا حصول ناگزیر ہو تو متاثرین کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق مناسب معاوضہ دیا جائے اور ان کی بحالی کے لیے جامع اور شفاف پالیسی مرتب کی جائے تاکہ کسی بھی خاندان کو معاشی یا سماجی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
QNN World Regional News Bulletin 1st June 2026
احتجاج کے دوران شرکاء نے حکومت پنجاب، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ عوامی تحفظات کو سنجیدگی سے سنا جائے اور متاثرہ علاقوں کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد ایسا حل نکالا جائے جو ترقیاتی ضروریات اور شہری حقوق دونوں کے تقاضوں کو پورا کرے۔
مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر توجہ نہ دی گئی اور منصوبے کے مجوزہ روٹ پر نظرِ ثانی نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اور آئینی راستے اختیار کیے جائیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے گی۔
مصدقہ خبریں، ذمہ دارانہ صحافت
QNN World