بابا بلھے شاہؒ دربار پر بجلی کی طویل بندش، انتظامات پر سوالات اٹھنے لگے

قصور (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف طارق نوید سندھو) حضرت بابا بلھے شاہؒ کے تاریخی دربار پر عرس مبارک سے قبل چار گھنٹے سے زائد بجلی کی مسلسل بندش نے محکمہ اوقاف، واپڈا حکام اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شدید گرمی اور حبس کے باعث دربار پر موجود سینکڑوں زائرین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ متبادل بجلی کے انتظامات نہ ہونے کے باعث دربار کا بیشتر حصہ اندھیرے میں ڈوبا رہا۔

عینی شاہدین کے مطابق بجلی کی طویل بندش کے دوران دربار شریف آنے والے زائرین پسینے میں شرابور رہے اور انہیں بنیادی سہولیات تک میسر نہ آسکیں۔ دربار پر موجود افراد نے شکایت کی کہ نہ صرف بجلی کا کوئی بیک اپ سسٹم موجود نہیں بلکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جنریٹر کا انتظام بھی نہیں کیا گیا، جس کے باعث بزرگ، خواتین اور دور دراز علاقوں سے آنے والے عقیدت مند شدید پریشانی کا شکار رہے۔

زائرین اور شہریوں کا کہنا ہے کہ حضرت بابا بلھے شاہؒ کے دربار پر روزانہ لاکھوں روپے مالیت کے عطیات اور نذرانے وصول کیے جاتے ہیں، تاہم ان وسائل کے باوجود بنیادی سہولیات کی فراہمی اور دیکھ بھال پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر صوبے کے اہم ترین روحانی اور مذہبی مراکز میں شمار ہونے والے دربار پر بھی بجلی کے متبادل انتظامات موجود نہیں تو یہ متعلقہ اداروں کی ناقص منصوبہ بندی اور انتظامی غفلت کی واضح مثال ہے۔

شہریوں نے واپڈا حکام سے سوال کیا ہے کہ دربار جیسے اہم مذہبی مقام پر اتنی طویل بجلی بندش کیوں برداشت کی جا رہی ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ بھی زائرین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے متحرک دکھائی نہیں دیتی۔ ان کے مطابق بجلی کی عدم دستیابی کے باعث دربار کے مختلف حصوں میں اندھیرا چھایا رہا اور زائرین کو فاتحہ خوانی اور دیگر معمولات کی ادائیگی کے لیے موبائل فون کی ٹارچ استعمال کرنا پڑی۔

عوامی حلقوں کے مطابق دربار شریف کی مسجد میں وضو کے لیے پانی کی فراہمی بھی متاثر رہی، جس کے باعث نمازیوں اور زائرین کو اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ سالانہ عرس مبارک میں اب صرف بیس روز باقی رہ گئے ہیں اور اگر انتظامات کی یہی صورتحال برقرار رہی تو عرس کے موقع پر لاکھوں عقیدت مندوں کو شدید پریشانی اور بدنظمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

شہریوں، زائرین اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکرٹری اوقاف، ڈپٹی کمشنر قصور اور واپڈا کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، دربار شریف پر مستقل بیک اپ پاور سسٹم اور جدید جنریٹر فراہم کیا جائے اور زائرین کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی ادارے یا متعلقہ افسر کی غفلت ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا تدارک ممکن بنایا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے