ڈیرہ غازی خان: فنکاروں کے مسائل کے حل کیلئے اہم اجلاس

ڈیرہ غازی خان(کیو این این ورلڈ) پنجاب کونسل آف دی آرٹس، ڈیرہ غازی خان میں محمد علی فیڈریشن پاکستان کی دوسری اہم میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ضلع بھر سے تعلق رکھنے والے گلوکاروں، اداکاروں، شعراء، ادباء، ہدایت کاروں اور دیگر فنکاروں نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس میں فنکار برادری کو درپیش مسائل، ان کی فلاح و بہبود، معاشی تحفظ اور فن و ثقافت کے فروغ کے لیے مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ حکومت پنجاب سے فنکاروں کی فلاح کے لیے متعدد اہم مطالبات بھی پیش کیے گئے۔

اجلاس کے مہمانِ خصوصی ظفر اقبال کھوکھر تھے، جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض محمد سجاد کھوکھر اور صابر امام خٹک نے انجام دیے۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز عرفان خان بزدار کی زیرِ نگرانی تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیا، جس کے بعد اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی ظفر اقبال کھوکھر نے کہا کہ فنکار کسی بھی معاشرے کی تہذیب، ثقافت اور شناخت کے حقیقی سفیر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فنکاروں نے ہمیشہ اپنی صلاحیتوں کے ذریعے ملک اور معاشرے کا مثبت تشخص اجاگر کیا ہے، مگر بدقسمتی سے انہیں وہ سرپرستی اور سہولیات میسر نہیں جو ان کا حق ہیں۔ انہوں نے حکومت پنجاب پر زور دیا کہ فنکاروں کے لیے مستقل فلاحی منصوبے متعارف کرائے جائیں تاکہ وہ معاشی اور سماجی تحفظ کے ساتھ اپنی تخلیقی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔

اجلاس سے ملک مجاہد اعجاز، حبیب امجد، صادق امام خٹک، عرفان غازی، سہیل قریشی، ایاز شاہ اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ فنکار معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں، اس لیے حکومت کو ان کے مسائل کے مستقل حل کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پنجاب بھر میں مستحق فنکاروں کے لیے سرکاری آرٹسٹ کالونی قائم کی جائے تاکہ انہیں باعزت رہائش کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

شرکاء نے اس امر پر بھی زور دیا کہ رجسٹرڈ فنکار کی وفات کی صورت میں اس کی بیوہ یا قانونی ورثاء کو آرٹسٹ ویلفیئر فنڈ اور دیگر مالی امداد فوری طور پر منتقل کی جائے تاکہ متاثرہ خاندان معاشی مشکلات کا شکار نہ ہو۔ مقررین کا کہنا تھا کہ فنکار پوری زندگی فن و ثقافت کی خدمت کرتے ہیں، اس لیے ان کے اہلِ خانہ کے لیے بھی مؤثر فلاحی نظام ناگزیر ہے۔

اجلاس میں اعجاز ڈیروی، امجد سلطان، جاوید شہزاد، محمد طارق، واجد حسین، ایم طارق، یاسین وریا، ذوالفقار علی شیرو، ماسٹر منیر، عالم چانڈیہ، جعفر شباب، ندیم مغل اور دیگر فنکاروں نے بھی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ ڈیرہ غازی خان سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں ایک مستقل آرٹسٹ کلچرل سینٹر قائم کیا جائے، جہاں گلوکار ریہرسل کر سکیں، اداکار ڈراموں کی تیاری اور مشق کر سکیں، ہدایت کار تخلیقی منصوبوں پر کام کر سکیں، جبکہ شعراء، ادباء اور دیگر فنکار اپنی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے لیے مناسب پلیٹ فارم حاصل کر سکیں۔

اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ فن و ثقافت کسی بھی قوم کی شناخت کا اہم حصہ ہوتے ہیں، لہٰذا فنکاروں کی سرپرستی اور ان کی فلاح حکومت کی ذمہ داری ہے۔ مقررین نے کہا کہ اگر فنکاروں کو بہتر ماحول، معاشی تحفظ اور تخلیقی مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ ملکی ثقافت کو مزید مؤثر انداز میں فروغ دے سکتے ہیں۔

اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محمد علی فیڈریشن پاکستان، ڈیرہ غازی خان فنکاروں کے حقوق کے تحفظ، ان کے مسائل کے حل اور فن و ثقافت کے فروغ کے لیے اپنی جدوجہد پہلے سے زیادہ مؤثر انداز میں جاری رکھے گی۔ اس موقع پر حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا گیا کہ فنکار برادری کے دیرینہ مسائل کے مستقل حل، سرکاری آرٹسٹ کالونی، مستقل آرٹسٹ ویلفیئر فنڈ، علاج و رہائش کی سہولیات اور آرٹسٹ کلچرل سینٹر کے قیام کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ فنکار معاشی تحفظ کے ساتھ ملک کی ثقافتی خدمت کا سفر جاری رکھ سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے