بیجنگ (کیو این این ورلڈ) وزیرِ اعظم شہباز شریف اور چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے دونوں ممالک کے بنیادی قومی مفادات سے متعلق تمام امور پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے جبکہ پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر اتفاق بھی کیا گیا ہے۔
بیجنگ میں ہونے والی یہ اہم ملاقات پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال، اقتصادی تعاون، سکیورٹی اور مستقبل کی شراکت داری کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے چینی ہم منصب کی جانب سے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی آہنی دوستی باہمی اعتماد، اسٹریٹجک تعاون، امن، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ وژن پر قائم ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری نے پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں انقلابی کردار ادا کیا ہے۔ دونوں وزرائے اعظم نے سی پیک کے اگلے مرحلے پر عملدرآمد کے لیے اپنے عزم اور توقعات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کے تحت صنعتکاری، رابطہ سازی، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تبدیلی، صاف توانائی اور سماجی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

دونوں رہنماؤں نے پاکستان چین تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے سیاسی، اقتصادی، سٹریٹجک، سکیورٹی اور عوامی روابط کے شعبوں میں مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس موقع پر اعلیٰ سطحی تبادلوں اور قریبی رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کو دونوں ممالک کے درمیان تاریخی خیرسگالی کو عوام دوست اور مستقبل پر مبنی عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین شراکت داری خطے میں ترقی، استحکام اور خوشحالی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے چین کے 15ویں پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے اور پاکستان کے “اڑان پاکستان” ترقیاتی فریم ورک کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کو مزید تیز کیا جا سکے اور دوطرفہ تعاون کو وسعت دی جا سکے۔
شہباز شریف نے پاکستان کی قومی ترقی اور اقتصادی استحکام کے لیے چین کی مستقل حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں موجود چینی شہریوں، اداروں اور منصوبوں کی فول پروف سکیورٹی یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی سمیت نئے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چین کے خلائی اسٹیشن پروگرام کے لیے پاکستانی خلا بازوں کا انتخاب دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سٹریٹجک تعاون کا واضح مظہر ہے۔
ملاقات میں دونوں فریقین نے طے شدہ منصوبوں پر تیز رفتار عملدرآمد، قریبی رابطہ کاری برقرار رکھنے اور پاک چین شراکت داری کو عملی، نتیجہ خیز اور اعلیٰ معیار کے تعاون کے نئے مرحلے میں داخل کرنے پر اتفاق کیا۔

اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ سمیت اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد بھی موجود تھا۔