انقرہ (کیو این این ورلڈ) ترکیہ کی پارلیمنٹ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردی ہے، جس کے تحت تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور مشترکہ سلامتی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ معاہدے کی منظوری کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں 279 ارکان نے حمایت جبکہ 119 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔
ترک میڈیا اور خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق 592 رکنی ترک پارلیمنٹ کے 398 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ لیا، جن میں سے 279 نے معاہدے کے حق میں اور 119 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ اس طرح پارلیمنٹ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردی۔
پارلیمنٹ میں معاہدے پر بحث کے دوران خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین اور حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے رہنما فواد اوکتائے نے واضح کیا کہ اس معاہدے کا مقصد کسی تیسرے ملک کے خلاف کارروائی کرنا نہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام اور دفاعی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
حکمران جماعت کے رکن ضیا آلتونیالدز نے بھی معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد خطے میں سکیورٹی تعاون کو وسعت دینا اور ممکنہ تنازعات کو بڑھانے کے بجائے ان کی روک تھام کرنا ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی اہم شق کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ باقی دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ معاہدے میں دفاعی تعاون، مشترکہ فوجی تربیت، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، دفاعی صنعت میں اشتراک اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں ہونے والے سہ فریقی سربراہی اجلاس کے دوران مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان شریک تھے۔
تینوں ممالک کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، کسی بھی بیرونی جارحیت کی روک تھام اور خطے میں امن و استحکام کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔