عراقی کرد فورسز کے لیے امریکی فوجی تعاون ختم ہونے کا امکان، کرد رہنماؤں کو تشویش
بغداد:(کیو این این ورلڈ) امریکا نے عراق کے کردستان ریجن کے ساتھ موجود سکیورٹی تعاون کے معاہدے کی تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں خطے کو فراہم کی جانے والی امریکی فوجی امداد میں نمایاں کمی یا اس کے خاتمے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور عراقی کردستان کے درمیان سکیورٹی تعاون کا موجودہ معاہدہ ستمبر میں ختم ہونے جا رہا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے کرد حکام کو مبینہ طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ معاہدے کی موجودہ مدت مکمل ہونے کے بعد اس کی تجدید کا امکان نہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس معاہدے کے تحت امریکا کی جانب سے کرد فورسز کو سکیورٹی اور فوجی معاونت فراہم کی جاتی رہی ہے۔ کرد فورسز نے عراق میں شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف کارروائیوں کے دوران امریکا اور اتحادی افواج کے ساتھ مل کر اہم کردار ادا کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کرد فورسز کو امریکا کی جانب سے تقریباً 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی گئی تھی۔ تاہم معاہدے کی تجدید نہ ہونے کی صورت میں آئندہ اس نوعیت کی امریکی معاونت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
کرد حکام نے امریکی فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فوجی امداد میں کمی یا اس کے خاتمے سے خطے میں سکیورٹی کے حوالے سے خلا پیدا ہوسکتا ہے۔
ایک کرد رہنما کے مطابق امریکی امداد کی بندش سے خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہونے اور ایران کے اثر و رسوخ میں اضافے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔
کرد حکام کا مؤقف ہے کہ خطے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر امریکی تعاون بدستور اہم ہے، خصوصاً داعش کے دوبارہ منظم ہونے کے خدشات اور عراق و شام میں جاری علاقائی کشیدگی کے تناظر میں۔
امریکا کی جانب سے معاہدے کی تجدید نہ کرنے کی صورت میں کردستان ریجن کی سکیورٹی فورسز کو اپنے دفاعی اور فوجی وسائل کے حوالے سے نئی حکمت عملی اختیار کرنا پڑ سکتی ہے، جبکہ اس فیصلے کے خطے میں امریکا، عراق اور کردستان کے باہمی سکیورٹی تعلقات پر بھی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔