سپیشلائزڈ ہیلتھ میں قانون کی دھجیاں اڑ گئیں: 3 سال سے غائب ہیڈ نرس پر 'خاص کرم فرمائی'، پنجاب حکومت کی ہدایات ہوا میں اڑا دی گئیں

محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب میں گڈ گورننس کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ایک سنسنی خیز سکینڈل منظرِ عام پر آیا ہے، جہاں اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدنیتی کی تمام حدیں پار کر دی گئیں۔ 3 سال تک مسلسل بغیر اجازت ڈیوٹی سے پراسرار طور پر غائب رہنے والی ہیڈ نرس پر محکمے کے اعلیٰ حکام اس قدر مہربان ہوئے کہ پیڈا ایکٹ کے تحت نوکری سے برطرف کرنے کے بجائے نہ صرف انہیں خاموشی سے بحال کر دیا گیا بلکہ محض سروس ضبطی کا ڈراما رچا کر دوبارہ عہدے پر تعینات بھی کر دیا گیا۔ حکومتِ پنجاب اور وزیراعلیٰ کے سخت احکامات کو پسِ پشت ڈال کر کیے گئے اس غیر قانونی اقدام نے محکمے کے اندر جاری دوہرے معیار اور متضاد فیصلوں کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔

لاہور ( بیورورپورٹ) محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب میں گڈ گورننس، قانون اور وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے سنگین بے ضابطگی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔ راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی ہیڈ نرس مسماۃ نصرت فاضل، جو تقریباً تین سال (27 نومبر 2023 تا 21 جون 2026) تک بغیر کسی پیشگی منظوری کے ڈیوٹی سے غائب رہیں، انہیں برطرف کرنے کے بجائے نہ صرف بحال کر دیا گیا بلکہ محض 5 سال کی سروس ضبطی کی سزا دے کر دوبارہ راولپنڈی میں ہی تعینات کر دیا گیا ہے۔

محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن (S&GAD) کے ریگولیشنز ونگ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات اور سرکولر میں واضح کیا گیا ہے کہ پنجاب ایمپلائز ایفیشنسی، ڈسپلن اینڈ اکاؤنٹابلیٹی ایکٹ (پیڈا) 2006 کی دفعہ 7 کے تحت اگر کسی سرکاری ملازم کی ایک سال سے زائد عرصے کی غیر حاضری ثابت ہو جائے تو مجاز اتھارٹی کے پاس صرف تین سزاؤں کا اختیار باقی رہ جاتا ہے، جن میں جبری ریٹائرمنٹ، نوکری سے برطرفی یا نوکری سے خروج شامل ہیں۔ سرکولر میں وزیراعلیٰ پنجاب کا واضح نوٹس بھی درج ہے کہ ایک سال سے زائد غیر حاضری پر کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جا سکتی اور نرمی کی آڑ میں معمولی سزائیں دینا قانون اور گڈ گورننس کی خلاف ورزی ہے۔

اس کے برعکس 3 اگست 2026 کو جاری ہونے والے حکم نامے میں سپیشل سیکرٹری (آپریشنز) نبیلہ عرفان اور ہیئرنگ آفیسر ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے گھریلو حالات اور والدہ کی بیماری کا عذر بنا کر غیر حاضری کو ناگزیر حالات قرار دے دیا۔ انہوں نے پیڈا ایکٹ 2006 کی دفعہ 4 کے تحت صرف 5 سالہ سروس کی ضبطی کی سزا عائد کر کے نرس کو دوبارہ تعینات کر دیا، جو کہ اختیارات سے تجاوز اور بدنیتی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

سرکاری دستاویزات اور جاری کردہ احکامات کے مطابق اسی محکمہ کی سپیشل سیکرٹری (آپریشنز) نبیلہ عرفان کے دستخطوں سے ایک سال یا اس سے بھی کم عرصہ غیر حاضر رہنے والی دیگر نرسوں کو فوری طور پر نوکری سے برطرفی کی سخت ترین سزائیں دی گئیں، جبکہ 3 سال تک غیر حاضر رہنے والی نرس پر بحالی کا کرم کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان کی چارج نرس مسماۃ ارم اکبر کو 03 اپریل 2025 سے غیر حاضر رہنے پر 06 مارچ 2026 کے آرڈر کے تحت پیڈا ایکٹ کے مطابق برطرف کر دیا گیا۔ ملتان کارڈیالوجی کی چارج نرس مسماۃ ایمن بی بی کو 21 جنوری 2025 سے غیر حاضر رہنے پر 02 مارچ 2026 کو نوکری سے فارغ کیا گیا، جبکہ سروسز ہسپتال لاہور کی چارج نرس مسماۃ صائمہ پروین کو 15 جنوری 2025 سے غیر حاضری پر 02 مارچ 2026 کو برطرفی کا حکم صادر کیا گیا۔

ایک سے سوا سال غیر حاضر رہنے والی ملازمین کو تو قانون اور پیڈا ایکٹ کا حوالہ دے کر ملازمت سے فارغ کر دیا گیا، لیکن حیران کن طور پر 3 سال تک ڈیوٹی سے مکمل غائب رہنے والی ہیڈ نرس مسماۃ نصرت فاضل کو نہ صرف برطرفی سے بچایا گیا بلکہ انہیں نوکری پر بحال کر کے دوہرے معیار کی قلعی کھول دی گئی ہے۔

قانون کے ماہرین اور سینیئر انتظامی افسران کے مطابق ایک سال سے زائد غیر حاضر ملازم کو بحال کرنے یا برطرفی کے علاوہ کوئی اور سزا دینے کا اختیار سپیشل سیکرٹری یا مجاز اتھارٹی کے پاس موجود ہی نہیں تھا۔ S&GAD اور وزیراعلیٰ کی واضح ہدایات کی موجودگی میں 3 سال کی غیر حاضری پر بحالی صریحاً بدنیتی پر مبنی ہے۔

 

اس غیر قانونی اقدام اور اختیارات کے غلط استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ہیڈ نرس کی غیر قانونی بحالی کا حکم فوری طور پر منسوخ کر کے پیڈا ایکٹ کے مطابق برطرفی کا عمل مکمل کیا جائے۔ نیز وزیراعلیٰ پنجاب اور سیکرٹری S&GAD اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور قانون کی خلاف ورزی کرنے پر سپیشل سیکرٹری (آپریشنز)، متعلقہ ہیئرنگ آفیسر ایڈیشنل سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اور سیکشن افسر نرسنگ ون کے خلاف سخت ڈسپلنری کارروائی کا آغاز کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے