اوکاڑہ (کیو این این ورلڈ/بیورو چیف ملک ظفر) برصغیر پاک و ہند کے عظیم عالم دین، شیخ الاسلام حضرت علامہ غلام علی اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ کے 27ویں سالانہ عرسِ مبارک اور صاحبزادہ مفتی فضل الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ کے پہلے عرسِ مبارک کی بابرکت تقریبات مذہبی عقیدت، احترام اور مثالی نظم و نسق کے ساتھ منعقد ہوئیں، جن میں ملک بھر سے ہزاروں عقیدت مندوں، علما، مشائخ اور عاشقانِ اہلِ سنت نے شرکت کی۔
عرس کی مرکزی تقریب کا آغاز مزار شریف کے غسلِ مبارک سے ہوا، جس میں روحانی فضا، عقیدت اور محبت کے جذبات نمایاں رہے۔ اس موقع پر زائرین کی بڑی تعداد نے حاضری دی اور اپنے اکابرین سے والہانہ محبت، عقیدت اور وابستگی کا اظہار کیا۔
عرس کی تقریبات کے دوران مختلف مذہبی و روحانی محافل کا انعقاد بھی کیا گیا، جن میں علمائے کرام نے شیخ الاسلام حضرت علامہ غلام علی اوکاڑویؒ اور مفتی فضل الرحمٰنؒ کی دینی، علمی اور اصلاحی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ مقررین نے کہا کہ ان بزرگ شخصیات نے اپنی تمام زندگی دینِ اسلام کی خدمت، عشقِ رسول ﷺ کے فروغ اور عوام کی دینی و اخلاقی تربیت کے لیے وقف کیے رکھی۔
اس موقع پر سجادہ نشین دربار عالیہ ڈاکٹر محمد حمزہ اوکاڑوی، مفتی ایاز قادری اور ڈاکٹر راؤ محمد اکرام نے خطاب کرتے ہوئے حضرت شیخ القرآن علامہ غلام علی اوکاڑویؒ کی علمی، روحانی اور دینی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین نے کہا کہ ان کی تعلیمات آج بھی لاکھوں افراد کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور نئی نسل کو ان کے افکار اور کردار سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
مقررین نے مزید کہا کہ حضرت علامہ غلام علی اوکاڑویؒ کی علمی و روحانی میراث اہلِ سنت کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے، جبکہ ان کی باوقار شخصیت اور خدمات دینِ اسلام کی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ تقریب کی روحانی و علمی فضا نے شرکاء کو متاثر کیا اور اکابرینِ اہلِ سنت کی درخشاں علمی و روحانی روایت کی یاد تازہ کر دی۔
عرس کی اختتامی دعا میں پاکستان کی سلامتی، استحکام، ترقی، خوشحالی، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور عالمِ اسلام میں امن و استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
کیو این این ورلڈ
"مصدقہ خبریں، ذمہ دارانہ صحافت”