لنڈی کوتل (کیو این این ورلڈ)تنظیم اساتذہ ضلع خیبر نے ضلع بھر کے سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی شدید کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خالی آسامیوں پر فوری طور پر اساتذہ تعینات کیے جائیں، ای ٹرانسفر پالیسی پر نظرثانی کی جائے، تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں اور اساتذہ کو غیر تدریسی ذمہ داریوں سے نجات دلائی جائے تاکہ تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
یہ مطالبات تنظیم اساتذہ ضلع خیبر کے سیکرٹری مجاہد شاہ، تحصیل سیکرٹری شفیق الرحمن، شعبہ بہبود کے ذمہ دار ملک نادر شاہ اور دیگر رہنماؤں نے ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل (رجسٹرڈ) میں منعقدہ ’’میٹ دی پریس‘‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیے۔
رہنماؤں نے کہا کہ ضلع خیبر کے سرکاری سکول اس وقت اساتذہ کی شدید قلت کا شکار ہیں۔ بیشتر پرائمری سکولوں میں صرف دو اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ لوئے شلمان اور بازار ذخہ خیل سمیت متعدد علاقوں میں ایک ہی استاد پورے سکول کا نظام چلانے پر مجبور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ اور اساتذہ کے مقررہ تناسب کے مطابق ضلع خیبر کو فوری طور پر 651 مزید اساتذہ درکار ہیں، اس لیے حکومت ہنگامی بنیادوں پر نئی بھرتیاں کرے اور خالی پوسٹوں پر تقرریاں یقینی بنائے۔
تنظیم اساتذہ کے رہنماؤں نے کہا کہ ضلع کے بیشتر سکول بنیادی تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں۔ کئی سکولوں میں کلاس رومز کی شدید کمی ہے، جس کے باعث طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام سکولوں میں کم از کم چھ کمروں پر مشتمل عمارتوں کی تعمیر کو یقینی بنایا جائے تاکہ تعلیمی سرگرمیاں بہتر انداز میں جاری رہ سکیں۔
انہوں نے ای ٹرانسفر پالیسی پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ پالیسی میں ایسی اصلاحات کی ضرورت ہے جن سے پرائمری اساتذہ بھی یکساں طور پر فائدہ اٹھا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی تبادلوں سے متعلق پالیسیوں میں زمینی حقائق اور دور دراز علاقوں کے مسائل کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
اساتذہ رہنماؤں نے ہائی سکولوں میں آئی ٹی اور سائنس لیبارٹریوں کے قیام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید تعلیم کے فروغ کے لیے صرف لیبارٹریوں کا قیام ہی کافی نہیں بلکہ متعلقہ مضامین کے ماہر اساتذہ کی تعیناتی بھی ضروری ہے تاکہ طلبہ جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم حاصل کر سکیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اساتذہ سے متعلق پالیسی سازی میں اساتذہ تنظیموں کو شامل کیا جائے تاکہ زمینی حقائق کے مطابق مؤثر فیصلے کیے جا سکیں۔ انہوں نے پی ٹی سی فنڈ کو ایک مثبت اقدام قرار دیتے ہوئے اس میں مزید شفافیت کے لیے آڈٹ اور کلیئرنس سرٹیفکیٹ کو لازمی قرار دینے کی تجویز بھی پیش کی۔
میٹ دی پریس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ تنظیم اساتذہ ایک رجسٹرڈ پلیٹ فارم ہے جو اساتذہ کی فلاح و بہبود، طلبہ کے مسائل کے حل اور تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ مستقبل میں بھی ضلع خیبر میں تعلیم کے فروغ اور تعلیمی مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیراعلیٰ کی جانب سے منظور کردہ اساتذہ اپ گریڈیشن پالیسی کو موجودہ حکومت نے ختم کر دیا ہے، جس سے اساتذہ میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا کہ پرائمری اساتذہ کی اپ گریڈیشن پالیسی کو فوری طور پر بحال اور عملی شکل دی جائے تاکہ اساتذہ کے دیرینہ مطالبات پورے ہو سکیں۔
اساتذہ رہنماؤں نے سکولوں میں صاف پانی، بیت الخلاء اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی، اساتذہ کے تحفظ کو یقینی بنانے، تحصیل باڑہ میں گزشتہ ماہ شہید ہونے والے استاد کے اہل خانہ کو شہید پیکج دینے، طلبہ کو بروقت درسی کتب فراہم کرنے اور اساتذہ کو غیر ضروری انتظامی و غیر تدریسی فرائض سے مستثنیٰ قرار دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اساتذہ کو تدریس کے علاوہ دیگر ذمہ داریوں میں الجھایا جاتا رہا تو تعلیمی معیار متاثر ہوگا، اس لیے انہیں مکمل طور پر تدریسی فرائض پر توجہ دینے کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔