رینالہ خورد(کیو این این ورلڈ/نامہ نگار) رینالہ خورد میں گزشتہ ایک سال سے واٹر فلٹریشن پلانٹ کے ساتھ قائم فلتھ ڈپو شہریوں کیلئے وبالِ جان بن گیا۔ مقامی شہریوں کے مطابق فلتھ ڈپو نہ صرف پانی کو آلودہ کر رہا ہے بلکہ علاقے میں تعفن اور مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کا بھی سبب بن رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ ماحولیات اور حفظانِ صحت کے قواعد و ضوابط کے تحت کوڑا کرکٹ اور غلاظت جمع کرنے کیلئے فلتھ ڈپو شہری آبادی سے کم از کم چار کلومیٹر دور قائم ہونا چاہیے، تاہم “صاف ستھرا پنجاب” رینالہ خورد کے ٹھیکیدار عامر نے مبینہ طور پر نہر لوئر باری دوآب کے سنگم اور واٹر فلٹریشن پلانٹ کے بالکل قریب فلتھ ڈپو قائم کرکے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک سال سے قائم اس فلتھ ڈپو کی وجہ سے واٹر فلٹریشن پلانٹ کا صاف اور خوش ذائقہ پانی بھی مبینہ طور پر آلودہ ہو رہا ہے جبکہ نہر اور شہری آبادی کے قریب ہونے کے باعث ہر طرف بدبو اور تعفن پھیل رہا ہے۔
سماجی حلقوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ “صاف ستھرا پنجاب” کے ٹھیکیدار کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور فلتھ ڈپو کو فوری طور پر شہری آبادی سے دور منتقل کیا جائے تاکہ عوام کو ماحولیاتی آلودگی اور بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔