ایرانی وزیر خارجہ کے امریکی پیغامات پاکستان کے ذریعے پہنچانے کا دعویٰ

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ دورہ اسلام آباد کے حوالے سے اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایک جانب ایرانی سفیر نے دورے کا مقصد علاقائی مشاورت قرار دیا ہے تو دوسری جانب ایرانی خبرایجنسی نے امریکا کو پیغامات کی ترسیل کا دعویٰ کیا ہے۔

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کی سربراہی میں ایرانی وفد کے دورہ اسلام آباد کا مقصد دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لینے اور علاقائی صورتحال پر مشاورت کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وفد نے اپنے علاقائی سفارتی دورے کے آغاز پر پاکستانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ایرانی سفیر نے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مثبت کوششیں کر رہے ہیں۔

رضا امیری مقدم نے پاکستانی حکومت، افواج، سیکیورٹی فورسز اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی وفد کو مکمل سیکیورٹی اور سازگار ماحول فراہم کیا گیا، جو پاکستان کی مؤثر حکمت عملی اور بہترین انتظامی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔

ادھر ایرانی خبرایجنسی فارس نے دعویٰ کیا ہے کہ عباس عراقچی نے اپنے دورہ اسلام آباد کے دوران پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکا کو ایران کی “سرخ لکیر” سے متعلق تحریری پیغامات پہنچائے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان پیغامات میں جوہری معاملات، آبنائے ہرمز اور ایران کی اہم شرائط شامل ہیں، تاہم یہ پیغامات ایران اور امریکا کے درمیان جاری کسی باضابطہ مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بلکہ ایران کی جانب سے اپنی پالیسی واضح کرنے کی کوشش قرار دیے جا رہے ہیں۔

باخبر ذرائع کے مطابق عباس عراقچی وزارت خارجہ کی طے شدہ سفارتی حدود کے اندر رہتے ہوئے یہ اقدامات کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ عباس عراقچی نے دو روز کے دوران اسلام آباد کا دوسرا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ بعد ازاں وہ روس روانہ ہوگئے جہاں وہ صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے