جب میری میری عرضی روضہ رسول پہنچی

جب میرا خط روضہ رسول اللہ ﷺ پہ پہنچا!
تحریر: ظفر اقبال ظفر
میرا ایک دوست عمرے کے لیے سعودی عرب جانے سے ایک دن پہلے مجھے ملا۔ جب اس نے بتایا کہ میرے آقا کریم ﷺ کی سرزمین پہ جا رہا ہے تو دل بھر آیا، لہجہ اس قدر بھاری ہو گیا کہ زبان لفظوں تلے دب گئی۔ کچھ لمحے دل کی بے ترتیب دھڑکنوں کو سنبھالنے میں لگے، حواس سنبھلے تو میں نے اس سے درخواست کی کہ یار، میرا ایک کام کر دو گے، احسان ہو گا تمہارا؟ اُس نے کہا بولو؟ میں نے بتایا کہ میں نے ایک خط حضور نبی کریم ﷺ کے نام لکھا ہے، جو پہلے ایک دفعہ روضہ رسول اللہ ﷺ پہ پہنچا تو تھا، مگر قاصد نے جب خود پڑھا تو جانے کس خیال میں گم ہو گیا، روضہ رسول ﷺ پہ پڑھنے کی ہمت نہ ہوئی یا اس خیال میں گرفتار ہو گیا کہ جس احساسات و جذبات سے لکھا گیا، اس کیفیت کے ساتھ پڑھا نہیں جا سکے گا، اور پھر ایسی خاموشی طاری ہوئی کہ قاصد نے اس امانت کو خانہ کعبہ میں اللہ کے سامنے قبولیت کے دُعائیہ انداز میں پیش کر دیا۔ اس کے اس عمل کا بھی شکریہ، مگر میری قلبی و رُوحانی تسلی نہ ہوئی اور میں نے صبر کا جو بھار اُٹھا رکھا تھا، وہ امانت بنا کر اپنے اس دوست کے کندھوں پہ رکھ دیا کہ میرا خط حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں پڑھ کر پیش کرنا۔

اس نے حامی بھرتے ہوئے رابطے میں رہنے کا کہا۔ جب وہ مسجد نبوی میں روضہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے نمازِ عشاء کے بعد بیٹھا ہوا تھا تو اس نے روضہ مبارک کی جانب موبائل کیمرہ کرکے مجھے دو منٹ کی ویڈیو بنا کر سینڈ کی، جس میں نعتیہ جملہ کہا کہ حضور ﷺ سب جانتے ہیں، وہ سارے اُمتیوں کے دلوں میں پیدا ہوئے اک اک خیال سے واقف ہیں۔ ظفر صاحب، دل چھوٹا نہ کیا کرو۔ اگلے دن جب میں نے موبائل چیک کیا تو دل بھر آیا اور نم آنکھوں، لرزتے لہجے میں اسے شکریہ کا وائس میسج کرتے ہوئے کہا: آپ نے کہا دل چھوٹا نہ کیا کروں۔ میں کیا کروں، حضور ﷺ کے معاملے میں میرا میرے دل پہ اختیار ہی نہیں ہے۔ چھوٹا، بڑا، تنگ، کھلا، کچھ بس میں نہیں رہتا، بے قابو ہو جاتا ہے۔ آپ کو مالی قوت حاصل ہے، آپ روضے رسول ﷺ پہ آ جاتے ہو، مگر مجھے دولتِ محبت کی بے پناہ شدت میں مال کی کمی دی ہے۔ میرا درد آپ نہیں سمجھو گے۔۔۔ میرا سلام پہنچانے کا شکریہ۔

(یہ لرزتے لہجے، بھیگی آنکھیں، کانپتے دل، تھرتھراتی زبان، تڑپتی رُوح، سسکتی محبت، ادب کے غسل میں پیش ہوئی کیفیت پہ مبنی جو میری آواز میں پوشیدہ تھی، مدینہ کی اُن زندہ فضاؤں نے جن میں میرے نبی کریم ﷺ نے سانس لیے تھے، حضور ﷺ کی روحانی بارگاہ میں پیش کر دی تھی۔) اس کیفیت کو گزرے ابھی دو، تین گھنٹے ہی ہوئے تھے کہ میرا ایک دوست جو روضہ رسول اللہ ﷺ میں موجود تھا، اس نے خصوصی میرے لیے میرا سلام بارگاہِ رسالت ﷺ میں پہنچانے کی ویڈیو بنا کر مجھے سینڈ کردی۔ جسے دیکھنے کے بعد میں نہ جانے کتنی دیر محبتِ رسول ﷺ میں رویا۔ یہ میرے کہے بغیر ہوا تھا۔ یعنی یہ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے سلام کا جواب آیا تھا۔۔۔ روضہ رسول اللہ ﷺ پہ بہت سارے سلام پہنچتے ہیں، مگر سلام کے لیے آنے والوں سے بھی بڑے خوش نصیب وہ ہیں جن کو سلام کا جواب مل جاتا ہے۔

میری قسمت تو دیکھئے، میں نہیں پہنچا، میرا سلام پہنچا اور مجھ تک جواب پہنچا۔ یہ حضور ﷺ کی جانب سے ہوا احسان ہی تو ہے۔ میں نے اُس دوست کا بھی اشکوں سے بھیگی نگاہوں سے شکریہ ادا کیا اور دُعا دی کہ آپ نے مجھے روضہ ﷺ کی زیارت کروائی، سلام پیش کیا اور سلام کا جواب مجھ تک پہنچایا، میرا رب آپ کو روضے والی ہستی کی زیارت کروائے۔ آمین ثم آمین۔ اور پھر گھنٹوں کی خاموشی۔

ہوش و حواس سنبھلے تو مجھے خط یاد آگیا۔ میں شدت سے چاہتا تھا میرے خط کے تمام احساسات و جذبات سے بھرے الفاظوں کی تحریر بارگاہِ رسالت ﷺ میں پہنچ جائے۔ روضہ رسول ﷺ سے آگے خدمتِ رسول ﷺ میں کیسے پیش ہوا جائے، یہ وہ سوال تھا جس کی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ حضور ﷺ کی محبت خود سکھا دیتی ہے آدابِ محبت۔ میں نے درود شریف پڑھ کر حضور ﷺ سے التجا کی کہ مجھے راستہ دکھائیے، پھر یہ طریقہ دل کی زمین پہ وحیِ محبوب ﷺ بن کر اُترا۔

عصر کا وقت تھا اور دوست ابھی تک مسجد نبوی میں ہی تھا۔ میں نے اس سے دریافت کیا تو اس نے اپنی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے پوچھا کہ میں آپ کے لیے یہاں سے کیا تحفہ لاؤں جو آپ کو لازمی قبول کرنا ہے؟ میں نے اسے بتایا کہ مجھے کسی دنیاوی چیز کی خواہش نہیں، میں اگر لینا ہی چاہوں گا تو مدینہ پاک کی خاک لوں گا، جو میرے نبی کریم ﷺ کے مقدس قدموں تلے آ کر خاکِ شفا کے درجے کو پہنچی ہے۔۔۔ کیا آپ مجھے اس وقت ایک عمل کا تحفہ دے سکتے ہو؟ اس نے کہا ضرور، آپ بتائیے؟ میں نے کہا کہ میرا ایک خط ہے جو حضور ﷺ کی خدمتِ اقدس میں پہنچانا ہے۔ اس نے کہا جی، بتائیے کیا کروں۔ میں نے اسے خط سینڈ کیا اور اسی خط کو اپنی زبان میں پڑھنے کی ایک ویڈیو سینڈ کی۔ اور کہا کہ گنبدِ خضریٰ کے سائے میں سرکارِ دو عالم ﷺ کو مخاطب کرکے عرض کرنا کہ حضور ﷺ، آپ کے دیوانے گنہگار امتی ظفر اقبال ظفر نے آپ کے نام خط لکھا ہے، جو انہی کی زبانی آپ کی توجہ و سماعت میں پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہے۔ آپ ﷺ اپنے روضے کے ملائکہ خادمین کو حکم فرمائیں کہ وہ ظفر اقبال ظفر کی رُوح کے ترجمان خط کے سارے احساسات و جذبات سے لبریز الفاظ آپ کی رُوحانی بارگاہ میں پیش کریں۔ اور پھر ویڈیو میں موجود میری آواز کو گنبدِ خضریٰ کی فضاؤں کے حوالے کر دیا گیا۔

اس کے بعد وہ دوست روضہ رسول ﷺ کی جالیوں کے پاس جا کر حضور ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ، حضرت عمر فاروق ؓ کو سلام پیش کرتے ہوئے میرے خط کو پیش کرنے کا اور حضور ﷺ کے قبول کرنے کے تذکرے کرتا ہوا بابِ اسلام سے داخل ہوتا اور جنت البقیع والے راستے نکل جاتا۔ یہ عمل اس نے تین دفعہ کیا۔ پھر میرے سینے کو اس عمل نے ایسا ٹھنڈا کیا کہ میرا مقصدِ حقیقی تکمیل پا گیا۔

اب جب بھی ان لمحات کا خیال آتا ہے، محبتِ رسول ﷺ کی خوشبو میرے پورے وجود کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے اور میں بے اختیار کہتا ہوں کہ آقا کریم ﷺ، آپ کا شکریہ کہ آپ نے میری محبت و ادب میں لپٹی تحریر کو قبول فرمایا۔ میری محبت کو قبول فرمایا۔ یا رسول اللہ ﷺ، آپ کی آل و اولاد کے جوتوں کی خاک میرے سر کا تاج۔ فاطمہ ؓ کے بابا، حسنین ؓ کے نانا، سرکارِ دو عالم ﷺ، آپ پہ لاتعداد درود و سلام۔

حضور ﷺ، آپ سے اک بات کہوں؟ مجھے پتا ہے آپ ﷺ مجھے اپنے در پہ کیوں نہیں بلاتے۔ کیونکہ آپ ﷺ کے در پر آکر آپ ﷺ سے ملنا اک بار کا ملنا ہے، مگر آپ ﷺ سے دُوری میں لاتعداد ملاقاتیں پوشیدہ ہیں۔

میرے وجودِ ایمان کو اپنی محبت کی رُوح سے بسائے رکھنے کا احسان جنت کے اُس مقام پر قائم فرمائے گا جب آپ ﷺ کے رُوبرو پیش ہوں گا۔

ظفراقبال ظفر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے