واشنگٹن (کیو این این ورلڈ): امریکی سینٹرل کمانڈ نے طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس جارج واشنگٹن کی مشرق وسطیٰ میں تعیناتی کی تصدیق کردی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق جارج واشنگٹن نے خطے میں گزشتہ کئی ماہ سے تعینات طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ سنبھال لی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یو ایس ایس جارج واشنگٹن کی خطے میں تعیناتی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال بدستور حساس ہے۔ امریکی بحری بیڑے کی موجودگی کو خطے میں امریکی فوجی موجودگی کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن تقریباً 9 ماہ سے مشرق وسطیٰ میں تعینات تھا اور ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی اسے خطے میں اہم ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔ ابراہم لنکن پر تقریباً 5 ہزار سیلرز تعینات تھے۔
چند روز قبل غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ طویل عرصے تک مشرق وسطیٰ میں تعیناتی کے باعث یو ایس ایس ابراہم لنکن پر موجود عملہ ذہنی صحت سے متعلق مسائل کا شکار ہونے لگا تھا۔ رپورٹس میں جہاز پر بعض سہولیات کی قلت کی نشاندہی بھی کی گئی تھی، جس کے بعد امریکی حکام کی جانب سے ابراہم لنکن کی جگہ جارج واشنگٹن کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے تسلیم کیا تھا کہ ابراہم لنکن پر تعینات اہلکاروں کو ایک مشکل اور چیلنجنگ صورتحال کا سامنا رہا، تاہم ان کے مطابق بعد میں ان مسائل کو دور کرلیا گیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کی جانب سے ابراہم لنکن کے عملے کو درپیش مشکلات سے متعلق مختلف مؤقف سامنے آنے کے باوجود امریکی حکام نے خطے میں طیارہ بردار بحری بیڑے کی موجودگی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔