رینالہ خورد (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار) رینالہ خورد شہر اور مضافاتی علاقوں میں شدید گرمی کی لہر نے شہریوں کو بے حال کردیا جبکہ لیسکو واپڈا کی جانب سے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا۔ شدید حبس اور چلچلاتی دھوپ کے باعث درجہ حرارت 46 سے 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا جس کے نتیجے میں شہری گھروں تک محدود ہوکر رہ گئے اور بازاروں، سڑکوں اور عوامی مقامات پر غیر معمولی سناٹا دیکھنے میں آیا۔
تفصیلات کے مطابق عیدالاضحیٰ سے ایک روز قبل ہی رینالہ خورد اور گردونواح میں گرمی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ہونا شروع ہوگیا تھا۔ سورج کی تپش اور گرم ہواؤں نے معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کیا جبکہ عیدالاضحیٰ کے دوسرے اور تیسرے روز بھی شدید گرمی کی لہر برقرار رہی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ عید کی خوشیاں شدید گرمی کے باعث ماند پڑگئی ہیں۔
شدید گرمی کے دوران لیسکو واپڈا کی جانب سے کئی کئی گھنٹے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کیے جانے سے صورتحال مزید خراب ہوگئی۔ بجلی کی بندش کے باعث گھروں میں پنکھے اور کولنگ سسٹم بند ہونے سے بچوں، بزرگوں اور خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شہریوں نے شکایت کی کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث پانی کی فراہمی بھی متاثر ہورہی ہے جس سے روزمرہ زندگی اجیرن بن کر رہ گئی ہے۔
متاثرہ شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس وقت بجلی کی پیداوار وافر مقدار میں موجود ہے، اس کے باوجود غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ صرف عوام کو اذیت دینے کے مترادف ہے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ اگر حکومت عیدالاضحیٰ جیسے بڑے مذہبی تہوار پر بھی بلا تعطل بجلی فراہم نہیں کرسکتی تو عام دنوں میں عوام کو ریلیف دینے کے دعوے کس حد تک درست ہوسکتے ہیں۔
عوام نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شدید گرمی کے موسم میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ فوری طور پر بند کی جائے اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ لوگ سکھ کا سانس لے سکیں۔