پشاور: (کیو این این ورلڈ /بیورو رپورٹ) پاکستان اور افغانستان کے تاجروں نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ امور کو سیاسی تنازعات اور سکیورٹی معاملات سے الگ رکھنے پر زور دیتے ہوئے واضح ذمہ داریوں، مؤثر نگرانی اور خلاف ورزیوں پر کارروائی کے طریقہ کار پر مشتمل قابلِ تصدیق سکیورٹی نظام وضع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI) کے سینئر نائب صدر ضیاء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز) اور بورڈ ڈائریکٹر افغان چیپٹر احمد شاہ یارزادہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری سرحدی بندش کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارت اور ٹرانزٹ کو سیاسی اختلافات اور سکیورٹی مسائل سے الگ رکھنا زیادہ مؤثر حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔
تاجروں نے مطالبہ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایسا قابلِ تصدیق سکیورٹی میکنزم تشکیل دیا جائے جس میں فریقین کی ذمہ داریاں واضح ہوں، نگرانی کا مؤثر نظام موجود ہو اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کا طریقہ کار پہلے سے طے کیا جائے۔ ان کے مطابق مقصد صرف سرحدیں بند کرنا نہیں بلکہ ایسا نظام بنانا ہونا چاہیے جس سے سکیورٹی بھی مضبوط ہو اور جائز تجارت و کاروباری سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مؤثر تدارک، کاروبار اور روزگار کا تحفظ اور پاکستان کی عالمی و وسطی ایشیائی منڈیوں کے لیے تجارتی گیٹ وے کی حیثیت برقرار رکھنا مشترکہ ترجیحات ہونی چاہئیں۔ تاجروں کے مطابق تجارت اور ٹرانزٹ کی مکمل بندش سکیورٹی کے بنیادی مسائل کا مستقل حل نہیں۔
تاجروں نے 10 ماہ سے زائد عرصے سے جاری سرحدی بندش کے اثرات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اس عرصے میں سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے خطے کے عوام کی فلاح و بہبود میں کتنی بہتری آئی اور دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے کوئی بامعنی اور پائیدار پیش رفت ہوئی یا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سرحدی بندش سے تاجروں، برآمد کنندگان، درآمد کنندگان، ٹرانسپورٹرز، صنعتکاروں، کسٹمز ایجنٹس اور مزدوروں سمیت سرحد پار تجارت سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کو شدید معاشی نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے صرف افغانستان ہی متاثر نہیں ہوا بلکہ پاکستان بھی برآمدی منڈی، ٹرانزٹ آمدن اور افغانستان و وسطی ایشیا کے لیے اپنی قدرتی تجارتی راہداری کی حیثیت سے محروم ہو رہا ہے۔
تاجروں نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان سے جڑے سرحدی عسکریت پسند حملوں کے حوالے سے سنگین سکیورٹی خدشات لاحق ہیں اور ان خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، تاہم تجارتی راستوں کی بندش کو بنیادی سکیورٹی مسئلے کے حل کا متبادل نہیں بنایا جانا چاہیے۔
بیان کے مطابق افغانستان ایران اور وسطی ایشیا کے راستے اپنی تجارت منتقل کرنے کی صلاحیت بڑھا رہا ہے، جس کے باعث طویل عرصے تک سرحد بند رکھنے سے افغانستان کو تنہا کرنے کے بجائے پاکستان کے معاشی اور تزویراتی اثر و رسوخ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ موجودہ صورتحال کے نتیجے میں کاروبار متاثر، سرمایہ کاری کا اعتماد کمزور، سپلائی چینز منقطع اور روزگار کے مواقع محدود ہوئے ہیں۔
تاجروں نے کہا کہ اگر کسی پالیسی کے نتیجے میں بھاری معاشی نقصان ہو، کاروبار اور روزگار متاثر ہوں، افغانستان متبادل تجارتی راستوں کی طرف منتقل ہو اور پاکستان کی علاقائی ٹرانزٹ حب کی حیثیت کمزور ہو، جبکہ دہشت گردی میں واضح اور پائیدار کمی بھی سامنے نہ آئے تو اس پالیسی کا ازسرنو جائزہ لینا ضروری ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے تاجروں نے اس بات پر زور دیا کہ سکیورٹی اولین ترجیح ہونی چاہیے، تاہم تجارت، ٹرانزٹ اور معاشی تعلقات کو مؤثر انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی کا متبادل نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوطرفہ اور ٹرانزٹ تجارت خطے کے لاکھوں افراد اور خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ ہے، اس لیے تجارت کو سیاست سے الگ رکھتے ہوئے سکیورٹی اور معاشی مفادات میں توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔