کراچی (کیو این این ورلڈ/نامہ نگارڈاکٹربشیر بلوچ) وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کراچی پریس کلب کے باہر عورت مارچ کی رہنما شیما کرمانی اور دیگر انسانی حقوق کی کارکنوں کی گرفتاری اور مبینہ بدسلوکی کے معاملے پر سخت ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ پولیس افسران کو معطل کر دیا ہے۔ معطل ہونے والے افسران میں ڈی ایس پی صدر ناصر آفریدی، ایس ایچ او وومن حنا مغل اور ایس ایچ او آرٹلری میدان ندیم حیدر شامل ہیں۔ وزیر داخلہ نے واضح کیا ہے کہ اختیارات کے ناجائز استعمال پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور خواتین کے احترام و حقوق کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ماؤں کے عالمی دن کے حوالے سے پریس کانفرنس کے لیے کراچی پریس کلب پہنچنے والی شیما کرمانی، منیزہ احمد، خواجہ سرا برادری کی رہنما شہزادی رائے اور دیگر 8 خواتین کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔ پولیس حکام نے موقف اپنایا کہ یہ کارروائی نقصِ امن کے خدشے کے پیشِ نظر کی گئی۔ اس دوران خواتین پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو زبردستی موبائل میں بٹھایا، جبکہ شیما کرمانی نے اپنی گاڑی کلب کے گیٹ پر روک کر ان گرفتاریوں کے خلاف شدید احتجاج کیا جس پر انہیں بھی حراست میں لے کر تھانہ منتقل کر دیا گیا۔
واقعے کے بعد سندھ حکومت کے اعلیٰ حکام کی مداخلت پر تمام خواتین کو رہا کر دیا گیا، جس کے بعد وہ دوبارہ پریس کلب پہنچ گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے اس پورے واقعے کی اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ سماجی و عوامی حلقوں نے پولیس کے اس رویے کی شدید مذمت کی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت کو فوری انتظامی کارروائی کرنا پڑی۔