تونسہ: (کیو این این ورلڈ) بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، جو غریب، بیوہ اور مستحق خواتین کی مالی معاونت کے لیے قائم کیا گیا تھا، اب بعض مقامات پر بدانتظامی اور مبینہ کرپشن کے الزامات کی زد میں آ گیا ہے، جس سے مستحقین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں تونسہ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی مدعیت میں ایک مقامی ریٹیلر خضر گھالی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مذکورہ شخص پر الزام ہے کہ وہ خواتین سے سروے اور قسطوں کی ادائیگی کے نام پر غیر قانونی کٹوتیاں کرتا رہا ہے۔
متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ امدادی رقوم کی ادائیگی کے وقت بعض ریٹیلرز مختلف حیلوں بہانوں سے رقم میں کمی کر دیتے ہیں، جس کے باعث مستحقین کو ان کا پورا حق نہیں مل پاتا۔ ایک متاثرہ خاتون، جو ملزم کی قریبی رشتہ دار بھی بتائی جاتی ہے، انصاف کے حصول کے لیے متعلقہ دفتر پہنچ گئی، جس سے معاملے کی سنگینی مزید واضح ہو گئی۔
ماہرین کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام عوامی امانت اور فلاحی فنڈز پر مشتمل ہے، جس میں کسی بھی قسم کی خردبرد نہ صرف قانونی جرم بلکہ اخلاقی بددیانتی بھی ہے۔
شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے، شفاف نظام کو یقینی بنائے اور مستحق خواتین کو ان کا مکمل حق فراہم کیا جائے، تاکہ اس فلاحی منصوبے پر عوام کا اعتماد بحال رہ سکے۔
