سید صابر شاہ صابر انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ایک ہیں

قندیلِ فکر و فن : سید صابر شاہ صابر
تحریر: منور شاہ منور

جب تاریخِ ادب اپنے زرّیں اوراق پلٹتی ہے تو چند ایسے درخشندہ نام اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں جن کی علمی و ادبی خدمات زمانے کی گرد سے کبھی ماند نہیں پڑتیں۔ سید صابر شاہ صابر انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ایک ہیں، جنہوں نے اپنی فکر کی روشنی، قلم کی حرمت اور تحقیق کی گہرائی سے پشتو زبان و ادب کو نئی جہتیں عطا کیں۔

ساداتِ کرام کے معزز خانوادے میں سید ظاہر شاہ باچا کے آنگن سے طلوع ہونے والا یہ آفتابِ علم و ادب، وقت گزرنے کے ساتھ اپنی شعری لطافت، تحقیقی بصیرت، ادبی فراست اور تخلیقی جولانی کے باعث افقِ ادب کا درخشاں ستارہ بن گیا۔ آپ کی شخصیت علم و عرفان، تہذیب و شائستگی اور فکر و ادب کا ایسا حسین امتزاج ہے جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

تقریباً اسی (80) علمی و ادبی تصانیف آپ کے قلمِ زرنگار کا ثمر ہیں، جو آپ کی غیر معمولی علمی ریاضت، فکری وسعت اور ادبی عظمت کی روشن دلیل ہیں۔ آپ نے نہ صرف وطنِ عزیز بلکہ متعدد بیرونِ ممالک میں بھی اپنی علمی و ادبی شناخت منوائی اور بین الاقوامی ادبی مجالس میں پشتو زبان و ادب کی مؤثر نمائندگی کی۔

سید صابر شاہ صابر محض ایک شاعر یا ادیب نہیں، بلکہ عہدِ حاضر کی ایک مکمل ادبی درسگاہ، ایک زندہ روایت اور علم و قلم کے امین ہیں۔ ان کا قلم لفظوں کو صرف سطروں میں نہیں بکھیرتا بلکہ تہذیب، تاریخ، ثقافت اور احساس کی خوشبو سے انہیں ہمیشہ کے لیے امر کر دیتا ہے۔ ان کی شخصیت ایک شجرِ سایہ دار کی مانند ہے، جس کی چھاؤں میں ادب کے بے شمار تشنگانِ علم فیض یاب ہو رہے ہیں۔

بلاشبہ سید صابر شاہ صابر کا نام پشتو زبان و ادب کی تاریخ میں سنہرے حروف سے رقم ہو چکا ہے، اور جب تک علم کی شمع روشن رہے گی، ان کی خدمات، فکر اور تخلیقی وراثت اہلِ ذوق کے دلوں میں احترام، محبت اور عقیدت کے ساتھ زندہ رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے