اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے مستحق صارفین کو سبسڈی بدستور جاری رہے گی، جبکہ بجلی میٹرز کو کیو آر کوڈ سے منسلک کر کے ڈیٹا کی بنیاد پر سبسڈی کا نظام مزید شفاف بنایا جائے گا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اویس لغاری کا کہنا تھا کہ حکومت پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے سبسڈی ختم نہیں کر رہی، بلکہ نظام کو بہتر اور شفاف بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت سبسڈی لینے والے صارفین کی تعداد 2 کروڑ 15 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جن کا ڈیٹا کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے مرتب کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کچھ صارفین بڑے سولر سسٹم لگا کر 200 یونٹ کی کیٹیگری میں آ جاتے ہیں، جس سے اصل مستحق صارفین پر بوجھ بڑھتا ہے، اسی لیے کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہلیت کا تعین کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ بجلی سبسڈی کا حجم 199 ارب روپے سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ زرعی اور گھریلو شعبے کو مجموعی طور پر 527 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔ 20 لاکھ سے زائد سنگل فیز صارفین کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے۔
اویس لغاری کے مطابق آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی سے 3500 ارب روپے کی بچت ہوئی، جبکہ ڈسکوز کے نقصانات میں کمی سے 193 ارب روپے کی بچت حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ 2024-25 میں سرکلر ڈیٹ میں 780 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ اصلاحات کے باعث مختلف کیٹیگریز میں بجلی کے نرخ کم ہوئے ہیں، جن میں گھریلو صارفین کے لیے 16 فیصد، صنعتی کے لیے 33 فیصد، کمرشل کے لیے 8 فیصد اور زرعی صارفین کے لیے 14 فیصد کمی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ سولر انرجی کی حوصلہ شکنی نہیں کی جا رہی بلکہ نیٹ بلنگ پالیسی کو بہتر اور شفاف بنایا جا رہا ہے، تاہم 25 کے وی اور اس سے کم کے سولر منصوبوں کے لیے لائسنسنگ شرط ختم کر دی گئی ہے۔
اویس لغاری کا کہنا تھا کہ ملک میں کل بجلی پیداوار 36 ہزار میگاواٹ ہے جبکہ عوام گرڈ اور آف گرڈ سولر پر 50 ہزار میگاواٹ تک سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات کا مقصد تمام صارفین کے درمیان توازن قائم کرنا اور قومی خزانے پر بوجھ کم کرنا ہے۔