سیالکوٹ(کیو این این ورلڈ /ڈسٹرکٹ رپورٹر حسنین راجہ) دو فیکٹری مالکان کے درمیان جاری تنازع اور لڑائی جھگڑے کے اثرات سے مزدور بھی متاثر ہونے لگے ہیں۔ ایک متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے شوہر کا فیکٹری مالکان کے درمیان جاری تنازع سے کوئی تعلق نہیں، اس کے باوجود پولیس انہیں حراست میں لے گئی ہے۔
خاتون کے مطابق ان کے شوہر عثمان نامی شخص کی فیکٹری میں محنت مزدوری کرتے ہیں اور ان کا فیکٹری مالکان کے درمیان جاری لڑائی جھگڑے سے کوئی واسطہ نہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے شوہر کو بلاوجہ اس معاملے میں ملوث کیا جا رہا ہے۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ اگر پولیس کو ان کے شوہر پر کسی قسم کا شبہ ہے تو ان کا سی ڈی آر (کال ڈیٹا ریکارڈ) چیک کر لیا جائے، جس سے حقائق واضح ہو سکتے ہیں اور یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ ان کا اس تنازع سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔
خاتون نے اعلیٰ پولیس حکام سے اپیل کی ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، حقائق سامنے لائے جائیں اور بے گناہ افراد کو بلاجواز حراست میں رکھنے سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے شوہر کو انصاف فراہم کیا جائے اور معاملے میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔