11 جیلوں میں ورچوئل کورٹس، پانچ میں ماڈل انٹرویو رومز قائم، گورنر کی قیدیوں کو تعلیم اور فنی تربیت فراہم کرنے کی ہدایت

پشاور (کیو این این ورلڈ) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت صوبے کی جیلوں میں اصلاحات، جیلوں اور عملے کو درپیش مسائل کے حل سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں مشیر جیل خانہ جات و داخلہ کفایت اللہ، آئی جی جیل خانہ جات ریحان گل خٹک اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں آئی جی جیل خانہ جات نے گورنر فیصل کریم کنڈی کو صوبے کی جیلوں میں جاری اصلاحات، پریزن انڈسٹری، ڈیجیٹلائزیشن، قیدیوں کی گنجائش، ورچوئل کورٹس، ماڈل انٹرویو رومز اور طبی سہولیات سمیت مختلف امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا پریزن اینڈ کریکشن ایکٹ 2026 کے ترمیمی ایکٹ کو جانچ پڑتال کے لیے محکمہ قانون بھجوا دیا گیا ہے، جبکہ صوبے کی جیلوں میں تمام قیدیوں کا ڈیٹا مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے ذریعے ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح صوبے کی 11 جیلوں میں ورچوئل کورٹس اور پانچ جیلوں میں ماڈل انٹرویو رومز متعارف کرائے گئے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ مردان، پشاور اور ہری پور کی جیلوں میں پریزن انڈسٹری قائم کی گئی ہے، جہاں قیدیوں کو مختلف ہنر سکھانے اور انہیں معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے ہدایت کی کہ ہر ضلع میں قیدیوں کے تشخیصی ٹیسٹوں کے لیے لیبارٹریوں کے ساتھ اشتراکِ عمل کے قیام پر کام کیا جائے۔ انہوں نے صوابی اور ڈیرہ اسماعیل خان کی جیلوں کے فیز ٹو کی تعمیر ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔

گورنر نے کہا کہ قیدیوں کو تعلیم، فنی تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جیلوں میں قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق، معیاری طبی سہولیات اور بہتر ماحول کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ جیلوں کو محض سزا دینے کے مراکز کے بجائے اصلاح اور بحالی کے اداروں میں تبدیل کرنا ہوگا تاکہ قیدی رہائی کے بعد معاشرے کے مفید شہری بن سکیں۔ جیل خانہ جات کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون اور سپورٹ فراہم کی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے