لاہور (خصوصی رپورٹ/ کیو این این ورلڈ) پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) جو صوبے میں غریب بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے اور ان کا مستقبل سنوارنے کے لیے اربوں روپے کے بجٹ کے ساتھ قائم کیا گیا ہے، اب خود ہی انہی بچوں کے استحصال کا مرکز بن گیا ہے۔ لاہور میں کتابوں کی تقسیم کے دوران ایک سنگین سکینڈل سامنے آیا ہے جہاں پیف کی انتظامیہ نے پیشہ ور مزدوروں کو اجرت دینے کے بجائے غریب بستیوں کے معصوم بچوں کو بھاری بھرکم لوڈنگ کے کام پر لگا دیا۔ ذرائع کے مطابق گوداموں سے ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں میں کتابوں کے ڈبوں کو لادنے کے لیے کسی بالغ مزدور کے بجائے کم عمر کے بچوں سے مشقت لی جا رہی ہے جو کہ چائلڈ لیبر قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پیف کی ٹیموں کی نگرانی میں کتابوں کی تقسیم کا عمل جاری ہے جہاں گوداموں کے باہر انسانیت سوز مناظر دیکھنے میں آئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گوداموں سے کتابوں کے وزنی کارٹن اٹھا کر ٹرکوں تک منتقل کرنے اور انہیں ترتیب سے لوڈ کرنے کا تمام تر مشکل کام چھوٹے بچے کر رہے ہیں۔ یہ بچے بھاری وزن اٹھانے کی وجہ سے نہ صرف نڈھال ہو رہے ہیں بلکہ کئی بچے وزن کی تاب نہ لاتے ہوئے گرتے اور بار بار سانس لینے کے لیے زمین پر بیٹھتے ہوئے بھی دیکھے گئے۔ اس دوران وہاں کوئی بھی بالغ لیبر موجود نہیں تھی، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اس شرمناک عمل کے پیچھے اصل محرک مالی بچت ہے۔ مارکیٹ میں پیشہ ور مزدوروں کی یومیہ اجرت زیادہ ہے، لہٰذا پیف کے ذمہ داران نے چند سو روپے بچانے کی خاطر غریب بچوں کو سستے مزدور کے طور پر بھرتی کر لیا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جو کتابیں ان بچوں کے ہاتھوں میں علم کی روشنی پھیلانے کے لیے ہونی چاہیے تھیں، وہی کتابیں آج ان کے ناتواں کندھوں پر بوجھ بن چکی ہیں۔ دھول مٹی میں اٹے اور پسینے میں شرابور یہ بچے سارا دن سخت مشقت کرنے پر مجبور ہیں جبکہ متعلقہ افسران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

یہ واقعہ پاکستان کے چائلڈ لیبر قوانین اور بچوں کے تحفظ کے عالمی چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کے تحت کم عمر بچوں سے سخت جسمانی مشقت لینا قابلِ سزا جرم ہے۔ پنجاب چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو اور متعلقہ حکومتی اداروں کی اس معاملے پر خاموشی نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عوامی و سماجی حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور صوبائی وزیر تعلیم اس سکینڈل کا فوری نوٹس لیں۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ پیف کے ان افسران کے خلاف فوری انکوائری کی جائے جنہوں نے بچوں کو مزدوری پر لگایا اور ذمہ داران کو معطل کر کے ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبے بھر میں پیف کے تمام ڈسٹری بیوشن پوائنٹس کی سخت مانیٹرنگ کی جائے تاکہ کسی دوسرے مقام پر بچوں کا استحصال نہ ہو سکے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی ادارے ہی بچوں سے مشقت لینے لگیں گے تو معاشرے سے چائلڈ لیبر کا خاتمہ کیسے ممکن ہوگا؟ متاثرہ بچوں کے والدین کو معاوضہ فراہم کرنے اور ان بچوں کو مزدوری کے بجائے سکولوں میں داخل کرانے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ پنجاب حکومت کے تعلیمی اصلاحات کے دعووں کی ساکھ کو بچایا جا سکے۔