راولپنڈی (کیو این این ورلڈ) پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کی بنیادی وجہ وہاں کا سرداری اور اشرافیہ پر مبنی نظام ہے، جو صوبے میں موجود اسٹیٹس کو کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اور عام آدمی کو ترقی کرتے نہیں دیکھنا چاہتا۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کی اصل جڑ تک پہنچنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مخصوص طبقہ چاہتا ہے کہ غریب کا بچہ تعلیم حاصل نہ کرے، آگے نہ بڑھے اور ہمیشہ ان کا غلام بن کر رہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو صوبے کی ترقی اور عوامی خوشحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بعض عناصر اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے دہشت گردی اور بدامنی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سردار کاروبار کے نام پر منشیات اور ڈیزل اسمگلنگ جیسے غیر قانونی دھندوں میں ملوث رہے ہیں اور ریاستی وسائل میں حصہ نہ ملنے پر دہشت گردی کو ہوا دینے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ عناصر چاہتے ہیں کہ ہزاروں ارب روپے کے سرکاری وسائل اور ترقیاتی فنڈز میں ان کا حصہ برقرار رہے، جبکہ وہ لیویز فورس کو بھی اپنی ذاتی فورس سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض سرداروں کی خواہش ہوتی ہے کہ لیویز فورس ان کے گھروں کی چوکیداری کرے اور ان کے ذاتی مفادات کا تحفظ کرے، حالانکہ لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام اور ریاست کی خدمت کے لیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حقیقی اسٹیک ہولڈرز وہاں کے عوام ہیں، نہ کہ وہ چند افراد جو اپنے ذاتی مفادات کے لیے صوبے کے وسائل اور عوامی حقوق پر قابض رہنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے عناصر مختلف غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے خصوصی مراعات اور پرمٹس کے مطالبات کرتے ہیں، لیکن ریاست قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے ’’ہارڈ اسٹیٹ‘‘ کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب فوجی حکمرانی یا فوج کے ذریعے ریاست چلانا نہیں ہوتا بلکہ ایسی ریاست ہوتی ہے جہاں آئین اور قانون کی بالادستی قائم ہو اور تمام شہری قانون کے سامنے برابر ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئین اور قانون سب کے لیے یکساں ہیں اور تمام معاملات آئینی اور قانونی دائرے میں رہ کر ہی حل کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 5 کے مطابق ہر شہری کی پہلی ذمہ داری ریاست پاکستان سے وفاداری ہے اور یہی ایک مضبوط اور مستحکم ریاست کی بنیاد ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست قانون کی حکمرانی، امن و استحکام اور بلوچستان کے عوام کی ترقی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور کسی کو بھی دہشت گردی یا غیر قانونی ذرائع کے ذریعے اپنے مفادات مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔