شدت پسند ہتھیار ڈال دیں، حکومت بحالی کے لیے تیار ہے: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی

کوئٹہ (کیو این این ورلڈ) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے شدت پسندی ترک کرنے اور قومی دھارے میں شامل ہونے کے خواہشمند افراد کو مذاکرات اور مکمل بحالی کی پیشکش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جو عناصر ہتھیار ڈال کر امن کا راستہ اختیار کریں گے، ریاست ان کی مدد اور بحالی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، تاہم تشدد اور دہشت گردی کا راستہ اپنانے والوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

کوئٹہ میں اینٹی ٹیررازم فورس (اے ٹی ایف) کے 20ویں بنیادی تربیتی کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبائی حکومت مخالفین کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے تیار ہے اور سیاسی گفتگو کا دروازہ سب کے لیے کھلا ہے، چاہے بعض گروہ ماضی میں خونریزی اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہی کیوں نہ رہے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے عسکریت پسندی ترک کرنے والوں کی بحالی اور معاشرے میں دوبارہ شمولیت کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کر رکھا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ہتھیار ڈالنے والے افراد کو سرکاری ملازمتوں کے مواقع، ان کے بچوں کے لیے تعلیمی سہولیات، صحت کی بہتر خدمات اور دیگر سماجی مراعات فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ دوبارہ ایک پرامن اور باعزت زندگی گزار سکیں اور بلوچستان کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔

میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ اگر اس پیشکش کے باوجود بعض عناصر ہتھیار اٹھانے اور بغاوت کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو حکومت، عوام اور سکیورٹی ادارے کسی دباؤ یا دھمکی کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے صوبائی حکومت، پاک فوج، فرنٹیئر کور، بلوچستان پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور اینٹی ٹیررازم فورس مشترکہ طور پر مؤثر اقدامات کر رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ضرور ہوا ہے، جن میں رواں سال کے آغاز میں ہونے والے مربوط حملوں میں درجنوں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، تاہم سکیورٹی فورسز کے کامیاب جوابی آپریشنز کے نتیجے میں 100 سے زائد شدت پسند ہلاک کیے گئے اور دہشت گرد نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جاری سکیورٹی آپریشنز اپنے منطقی انجام تک پہنچیں گے اور بلوچستان کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کر کے امن و استحکام کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔

میر سرفراز بگٹی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ سیاست کو دہشت گردی سے نہ جوڑیں اور قومی سلامتی کے معاملات پر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے فوجی، پولیس اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان قومی ہیرو ہیں، لہٰذا ان پر بلاجواز تنقید سے گریز کیا جانا چاہیے۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے اینٹی ٹیررازم فورس کے تربیتی ادارے کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 15 کروڑ روپے کی خصوصی گرانٹ کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس فورس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی، جبکہ شہداء کے اہل خانہ اور پولیس اہلکاروں کے لیے مراعات میں مزید بہتری لائی جا رہی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ جو لوگ ہتھیار چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں، ریاست ان کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے ہوئے ہے اور ان کی بحالی، تعلیم، روزگار اور سماجی انضمام کے لیے ایک جامع اور مؤثر پروگرام تیار کیا گیا ہے، تاکہ وہ دوبارہ معاشرے کا مفید حصہ بن سکیں اور بلوچستان کے روشن مستقبل میں اپنا کردار ادا کر سکیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے